خطبات محمود (جلد 35) — Page 26
$1954 26 26 خطبات محمود لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان باتوں کو قابلِ ہنسی نہیں سمجھا بلکہ آپ نے تنبیہہ کی ہے کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔عورتوں کی منظمات کو چاہیے کہ ان کی اصلاح کریں۔خطیب تو ہمارا اپنا ہوتا ہے۔ہم اگر اُس کے کسی طبعی نقص پر نہیں گے تو دوسرے لوگ تو نعرے لگائیں گے۔اگر کوئی قوم اپنے لیڈروں کا احترام نہیں کرتی تو دوسرے تو جو چاہیں اُن سے سلوک کریں گے۔اب میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں جو میں نے خطبہ میں بیان کرنا تھا۔وہ مضمون میں تحریک جدید کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں۔میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی جماعت کو بتایا تھا کہ تحریک کے دونوں دوروں کے جو وعدے آ رہے ہیں وہ گزشتہ سالوں کی کی نسبت سے بہت کم ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس عرصہ میں کچھ کمی پوری کی گئی ہے۔یعنی جب میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعت کو اس طرف توجہ دلائی تھی اُس وقت اس سال کے وعدوں اور گزشتہ سال کے وعدوں میں 33 ، 34 فیصدی کا فرق تھا یعنی سو کی بجائے کی چھیاسٹھ کے وعدے آئے تھے لیکن اب فرق کم ہو گیا ہے۔اب چھیاسٹھ کی بجائے قریباً اسی فیصدی وعدوں کی گزشتہ سال سے نسبت ہے۔لیکن اب وعدوں کی تاریخ ختم ہو رہی ہے۔15 فروری آخری تاریخ ہے جس تک وعدے مرکز میں پہنچ جانے ضروری ہیں۔تین چار دن ڈاک پر لگ جائیں گے۔گویا وعدے زیادہ سے زیادہ 20 فروری تک وصول ہوں گے۔اور اس میں جتنے دن باقی رہ گئے ہیں وہ اتنے تھوڑے ہیں کہ ان میں اس کسر کا پورا ہونا بہت مشکل نظر آتا ہے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے جماعت کو بتایا تھا کہ ہمارے اہم ترین کاموں میں سے غیر ملکوں میں تبلیغ اسلام کرنا ہے۔کیونکہ اسلام کی کمزوری اور ضعف کا موجب غیر مذاہب کا رویہ ہے۔اگر ہم اسلام کی صحیح تعلیم لوگوں کے سامنے پیش کریں اور اگر ہم ان میں سے کچھ حصہ کو مسلمان بنا دیں تو لازمی طور پر اُن کی دشمنی اور عداوت کمزور پڑ جائے گی اور آہستہ آہستہ ہو سکتا ہے کہ وہ سارے ہی ہمارے بھائی بن جائیں۔مثلاً جب ملک تقسیم نہیں ہوا تھا ہم ہندوؤں میں تبلیغ کرتے تھے تو پیچھے پیچھے مولوی آ جاتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ آریہ بننا احمدی ہونے سے بہتر ہے۔اور زیادہ تر قریب رہنے والے چونکہ وہی لوگ ہوتے تھے اس لیے ہمیں