خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 24

خطبات محمود 24 24 $1954 اکثر ایسی ہوتی ہیں جو بوڑھی ہوتی ہیں اور وہ بچوں سے فارغ ہوتی ہیں یا گھر کی دوسری عورتوں کے پاس بچے چھوڑ کر آ جاتی ہیں۔لیکن یہاں ہمارے اصرار کی وجہ سے بچوں والی عورتیں بھی مسجد میں آجاتی ہیں کیونکہ یہ ضروری ہے کہ اگر بچہ گھر پر رہے تو یا عورت مسجد میں نہ آئے یا مرد مسجد میں نہ آئے اور یہ ہو نہیں سکتا۔اگر گھر کے سارے بالغ افراد عورتیں اور مرد مسجد میں آ جائیں گے تو لازماً بچے بھی مسجد میں آئیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایسا ہوتا تھا۔احادیث میں آتا ہے کہ آپ کے زمانہ میں مائیں اپنے بچے بھی ساتھ لے آتی تھیں اور جب بچے روتے تو آپ بعض دفعہ نماز جلدی پڑھا دیتے تھے۔1 اور آپ فرماتے تھے کہ ایسے اوقات میں یعنی جب بچہ روئے تو ماؤں کو اُسے گود ہی میں اُٹھا لینا چاہیے۔ایسا کرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔پس عورتوں کو ایسے مواقع پر اصرار کے ساتھ لانے کی کوشش یا تو رسول کریم صلی اللہ یہ وسلم کے زمانہ میں ہوا کرتی تھی اور یا اب ہمارے زمانہ میں کی جاتی ہے۔درمیان میں مسلمانوں پر ایسا دور آیا ہے جب عورتوں کو ایسے مواقع پر حاضر کرنے میں کوتاہی کی جاتی رہی۔اس عرصہ کے دوران میں یا تو بوڑھی عورتیں مساجد میں آ جاتی تھیں اور وہ بچوں سے فارغ ہوتی تھیں۔اور یا ایسی عورتیں آ جاتی تھیں جو بچے دوسری عورتوں کے پاس چھوڑ آتی تھیں۔انہیں مساجد میں آنے پر مجبور نہیں کیا جاتا تھا حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر اس امر پر مجبور کیا ہے۔مثلاً عید کے موقع پر آپ نے فرمایا کہ سارے مرد اور ہر قسم کی عورتیں اور بچے، جوان اور بوڑھے سب حاضر ہوں 2 اور ایسا کہہ کر مسلمانوں کو آپ نے ی اس امر کا احساس کرایا ہے کہ ایسے مواقع پر عورتوں کو بھی لانا چاہیے۔پس جہاں لجنہ کا یہ فرض ہے کہ وہ عورتوں کی تربیت کرے اور سمجھائے۔اور پھر ایسے طریق ایجاد کرے جن کے ذریعہ اس مشکل سے نجات حاصل کی جائے۔کیونکہ اگر بچے شور مچائیں گے تو خطبہ کے فوائد سے محروم رہنا ہو گا۔اور اگر بچے پیشاب کریں گے تو مسجد خراب ہو گی۔وہاں دوسرے لوگوں کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جب شریعت کے منشا کو پورا کرنے کے لیے ہم عورتوں کو مسجد میں آنے کے متعلق تحریک کریں گے تو اُن کے ساتھ بچے بھی آئیں گے