خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 218

$1954 218 خطبات محمود وو 66 میاں! قرآن کی تفسیر لکھنے بیٹھو تو قیامت تک ختم نہیں ہو سکتی۔لیکن جو اس سے فائدہ اٹھانے بیٹھے اس کے لیے اس کی تفسیر ایک لفظ میں آجاتی ہے۔قرآن کی تفسیر یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ انسان کا سچا تعلق ہو جائے۔پھر انہوں نے کہا کہ قرآن کریم اتنا بڑا نازل ہوا ہے تو در حقیقت ابو جہل کی قسم کے لوگوں کے لیے نازل ہوا ہے۔ورنہ اگر ابوبکر" جیسے لوگ ہی دنیا میں بس رہے ہوتے تو صرف بسم اللہ کی ”ب“ کافی تھی۔”ب“ کے معنی ساتھ کے ہیں اور مقصد یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے ساتھ ہو جائے۔تو سوچنے اور سمجھنے کی اگر عادت ڈال لی جائے تو لوگ کہیں کے کہیں نکل جائیں۔لیکن اگر ان میں صرف سننے کی عادت ہو، سوچنے اور غور کرنے کا مادہ ان میں نہ پایا جاتا ہو تو آہستہ آہستہ وعظ ونصیحت کی باتوں سے فائدہ اُٹھانے کی بجائے انہیں کان اور زبان کا ایسا چسکا پڑ جاتا ہے کہ اگر کوئی اچھی سے اچھی بات بھی انہیں کی اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں سنائے تو وہ فوراً کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ اس نے ہمارا وقت ضائع کر دیا ہے۔وہ یہ نہیں دیکھیں گے کہ اس نے بات کیا کی ہے اور وہ قیمتی اور اچھی ہے۔ایسے لوگوں کی نگاہ ہمیشہ برتن پر ہوتی ہے۔وہ یہ کبھی نہیں دیکھیں گے کہ اس برتن کے اندر کیا ہے۔اگر ایک غریب آدمی ہے اور اس کے پاس صرف ایک ٹوٹا پھوٹا آبخورا ہے اور وہ ان بھینس کا خالص، عمدہ اور گاڑھا دودھ اس میں ڈال کر دوسرے کو دیتا ہے تو گو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ برتن بھی زینت کا موجب ہوتا ہے لیکن کیا محض اس وجہ سے ہم اس دودھ کی قدر نہیں کریں گے کہ اس نے ایک ٹوٹے ہوئے آبخورے میں دودھ دیا ہے۔کیا ٹوٹے ہوئے آبخورے میں دودھ ڈالنے کی وجہ سے گاڑھا دودھ پتلا ہو جاتا ہے اور تانبے کے کٹورے میں دودھ ڈالا جائے تو پتلا دودھ گاڑھا ہو جاتا ہے یا باسی اور سڑا ہوا دودھ اگر کٹورے میں ڈالا جائے تو اس کی بڑی اچھی حالت ہو جائے گی اور آبخورے میں ڈالا جائے تو اس سے بُو آنے لگے گی۔یہ محض لغو بات ہے۔انسان کو اصل حقیقت پر غور کرنا چاہیے اور اسے اپنی زندگی کسی اچھے مصرف میں صرف کرنی چاہیے۔آخر ساٹھ ، ستر یا استی، سو سال کی زندگی ہی تو ہے اور کوئی بڑی مدت نہیں۔اس تھوڑے سے عرصہ کو زیادہ سے زیادہ اچھا اور بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔بیشک دنیا میں ٹھوکریں بھی ہوتی ہیں لیکن گرنے والے اُٹھتے بھی ہیں،