خطبات محمود (جلد 35) — Page 219
$1954 219 خطبات محمود ہے پہلے قدم بقدم چلتے ہیں اور پھر دوڑنے لگ جاتے ہیں۔لیکن جو گرتا اور پھر اُٹھنے کی کوشش کی نہیں کرتا اُس کی ترقی کے لیے کوئی سامان نہیں کیے جا سکتے۔اور جو آپ گرنا چاہتا۔خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ بھی اسے نہیں اُٹھاتا۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہی کہا ہے کہ جو ہماری طرف آتے ہیں ہم ان کی مدد کرتے ہیں۔1 اس نے یہ کہیں نہیں کہا کہ جو ہم سے بھاگتے ہیں ہم ان کو پکڑ کر واپس لاتے ہیں۔جو ہم سے منہ پھیرتے ہیں ہم ان کو اپنی تائید سے نوازتے ہیں۔جو بیٹھنا چاہتے ہیں ہم ان کو جبراً کھڑا کرتے ہیں۔جو گرنا چاہتے ہیں ہم ان کو زبردستی اُٹھاتے ہیں۔جو بے ایمان ہونا چاہتے ہیں ہم ان کو مجبور کر کے ایماندار بناتے ہیں۔قرآن یہی کہتا ہے کہ جو بے ایمان ہونا چاہتا ہے ہم اسے بے ایمان بنا دیتے ہیں اور جو ایماندار ہونا چاہتا ہے ہم اسے ایماندار بنا دیتے ہیں۔بہر حال انسانی زندگی کا خلاصہ صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے اندر ایک پختہ عزم پیدا کرے اور اچھی چیز کو پکڑ کر اس طرح بیٹھ جائے جیسے شکاری کتا اپنے شکار کو پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔اس کے دانت ٹوٹ جائیں تو ٹوٹ جائیں مگر وہ اپنے شکار کو نہیں چھوڑتا۔جب انسان اس نیت اور ارادہ کے ساتھ ایک راستہ کو اختیار کر لیتا ہے اور اچھی چیز کو پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے تو پھر نیکیوں کی طرف اس کا قدم اُٹھنا شروع ہو جاتا ہے کیونکہ کوئی نیکی نہیں جو اس سے اگلی نیکی کی توفیق نہیں دیتی۔اگر کوئی انسان سچے دل سے صدقہ دیتا ہے تو ضرور ہے کہ اسے نماز کی بھی توفیق ملے اور زکوۃ کی بھی توفیق ملے اور روزہ کی بھی توفیق ملے۔اور اگر کوئی اخلاص کے ساتھ روزے رکھتا ہے تو ضرور ہے کہ اس نیکی کے نتیجہ میں اُسے نماز اور زکوۃ اور حج کی توفیق ملے کیونکہ ہر نیکی دوسری نیکی کی طرف لے جاتی ہے۔بھلا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص جو کسی غریب سے ہمدردی کرتا ہے، اس سے محبت اور پیار کا سلوک کرتا ہے اور دنیاداری کے خیالات کے ماتحت نہیں بلکہ سچے دل سے اسے کھانا کھلاتا ہے ایسے شخص کے پاس اگر امانت رکھی جائے تو وہ کھا جائے گا۔یہ قطعاً ناممکن بات ہے۔جس شخص کے دل میں دوسروں کا اتنا درد ہے اور جو اُن کے لیے ہر وقت قربانی کرنے پر تیار رہتا ہے کس طرح ممکن ہے کہ وہ دوسروں کے مال میں خیانت کرے۔اگر سب لوگ مل کر بھی کہیں گے کہ اس نے دوسروں کا