خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 325

$1953 325 خطبات محمود کہ میں سینما کے لیے مرتا ہوں۔مجھے خواہش ہے کہ میں سینما دیکھوں۔اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ ہمیں جھوٹ بولنے سے منع کیا جاتا ہے لیکن فلاں شخص جھوٹ بولتا ہے اُسے منع نہیں کیا جاتا۔تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ میں جھوٹ بولنا چاہتا ہوں۔اگر کوئی شخص کہتا ہے ہمیں سود لینے سے منع کیا جاتا ہے اور فلاں شخص سو د لیتا ہے اُسے کوئی نہیں منع کرتا۔تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ میں سود لینے کے کے لیے بے تاب ہوں۔اس طرح وہ دوسرے کو بد نام نہیں کرتا بلکہ اپنے نقص کو ظاہر کرتا ہے۔اور ی سوچتا نہیں کہ جو لفظ میرے منہ سے نکلے ہیں ان سے ہر شخص یہ سمجھ لے گا کہ مجھے بھی اس جرم کی خواہش ہے۔اس قسم کا انسان دوسرے پر الزام نہیں لگا تا بلکہ اپنے نقائص کا خود اعلان کرتا ہے۔شریعت کہتی ہے کہ تم اپنے نقائص کی ستاری کرو اور دوسروں کے عیوب کی بھی ستاری کرو۔4 خدا تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صف ستار ہے۔پس اگر کوئی شخص گناہ کا مرتکب ہوتا ہے ارادت یا غیر ارادنا تو شریعت کہتی ہے تم اسے چھپاؤ۔خدا تعالیٰ اگر تمہارے عیب کو ظاہر نہیں کرتا تو تم بھی اُسے ظاہر نہ کرو۔ایک شخص رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور اُس نے کہايَا رَسُولَ اللہ ! میں نے بدکاری کی ہے۔آپ نے دوسری طرف منہ پھیر لیا۔وہ اُس طرف گیا اور کہایا رَسُولَ اللہ ! میں نے بدکاری کی ہے۔آپ نے پھر دوسری طرف منہ پھیر لیا۔پھر وہ چکر کھا کر آپ کی طرف آیا اور کہنے لگایا رَسُولَ اللہ ! میں نے بدکاری کی ہے اُس پر آپ نے پھر اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔لیکن پھر وہ آپ کے سامنے گیا اور کہنے لگا یا رَسُولَ اللہ ! میں نے بدکاری کی ہے۔آپ نے کی فرمایا کیا تم پاگل ہو؟ یعنی میں تو چاہتا تھا کہ تمہارا گناہ چھپا رہے اور تو سمجھتا تھا کہ میں نے سنا ہی ہے نہیں۔حالانکہ میں تجھ پر ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ جب خدا تعالیٰ نے تیری ستاری کی ہے تو تو اپنے گناہ کو کیوں ظاہر کرتا ہے پھر اس وجہ سے کہ اُس نے چار دفعہ اپنے گناہ کا اعتراف کیا تھا آپ نے اُس کی سزا کا حکم جاری کر دیا 5۔غرض جب کوئی شخص دوسرے پر الزام لگا کر کوئی بات کہتا ہے تو وہ در حقیقت اپنی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔خدا تعالیٰ تو جانتا ہے کہ اس کا دل چاہتا ہے یا نہیں۔یا وہ کتنی دفعہ گناہ کر چکا ہے ہے۔لیکن دونوں صورتوں میں اُس کا دوسروں پر الزام لگا نا گناہ کی علامت ہے۔اور وہ اس گناہ کالی خود ذمہ دار ہوتا ہے کیونکہ اُس نے آپ اپنے عیب کا اظہار کیا اُس کے کسی رشتہ دار یا ہمسایہ نے