خطبات محمود (جلد 34) — Page 298
$1953 298 خطبات محمود بڑے شوق سے پوچھیں۔کہنے لگے کہ آپ سچ سچ بیمار رہتے ہیں یا بہانے بنایا کرتے ہیں؟ میں اُن کی کے اس سوال پر حیران ہوا۔وہ کہنے لگے ہم جب آپ کی مجلس میں آتے ہیں تو آپ کھانس رہے ہوتے ہیں۔اور اس قدر کھانسی ہوتی ہے کہ ہم سمجھتے ہیں آپ چھوٹی سی تقریر بھی نہیں کر سکیں گے۔لیکن جب تقریر کرتے ہیں تو وہ چھ چھ گھنٹے تک کی لمبی ہو جاتی ہے۔میں نے کہا یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ بیمار بھی ہوتا ہوں تو وہ مجھ سے کام لے لیتا ہے۔پس میں نے یہ سارا واقعہ اس لیے بیان کر دیا ہے کہ لوگ محبت کی وجہ سے زخم کے متعلق پوچھتے رہتے ہیں۔سوکل ناخن کاٹا گیا ہے۔اب دباؤ پڑے تو تکلیف ہوتی ہے ورنہ درمیانی کیفیت ہے۔گوشت کا ٹکڑا لمبا ہو گیا ہے اور پھولا سا معلوم ہوتا ہے۔دوسرے مجھے اس سے خیال آیا کہ ہمارے پاس جو علوم تھے اور جن کی وجہ سے ہم دنیا میں سر بلند ہو سکتے تھے افسوس کہ ہم نے ان سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا۔اس بیماری کے کی سلسلہ میں ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب لاہور گئے ہوئے تھے۔انہوں نے ایک احمدی ڈاکٹر سے اس بات کا ذکر کر دیا کہ میں ایک جراح سے علاج کروانا چاہتا ہوں تو وہ ڈاکٹر صاحب چونکہ دیسی طب کے سخت خلاف ہیں اس لیے کہنے لگے آپ حضور سے میری طرف سے عرض کر دیں کہ ایسا ہر گز نہ کرائیں۔اور اگر ایسا کرانا ہی ہے تو پھر ہمیں بھی داتا گنج بخش صاحب کے دربار میں جانے کی اجازت دے دیں۔یعنی جس طرح وہاں جانا بیوقوفی کی بات ہے اسی طرح کسی دیسی جراح سے جانا کی۔علاج کروانا بھی بیوقوفی کی بات ہے۔بہر حال ہمارے ملک میں بعض ایسے فنون ہیں کہ اگر انہیں اب بھی استعمال میں لایا جائے تو ہمارا ملک ترقی کرسکتا ہے۔“ غیر مطبوعہ مواد از خلافت لائبریری ربوہ )