خطبات محمود (جلد 34) — Page 297
$1953 297 خطبات محمود ނ حصہ زخم میں گھسا ہوا تھا۔پہلے تو یہ خیال کیا کہ یہ اگر رہ جائے تو کوئی حرج نہیں۔لیکن بعد میں خیال کیا گیا کہ اگر یہ حصہ رہ گیا تو تکلیف ہوگی اس لیے جراح نے اُسے اوزار ڈال کر کھینچا جس۔کافی تکلیف ہوئی۔بہر حال ناخن کاٹنے کے بعد پٹی کر دی گئی۔اور آج زخم کی بظا ہر کیفیت ایسی تھی جیسے آنکھ میں پھولا نکلا ہوا ہوتا ہے۔اور زخم ناخن سے اونچا ہو گیا تھا۔تاہم حالت درمیانی دور میں ہے۔زیادہ خراب نہیں۔میں نے یہ تمام قصہ جمعہ میں بیان کر دیا ہے۔کیونکہ دوست ملنے آتے ہیں یا خطوط لکھتے ہیں تو بات کو گرید تے رہتے ہیں۔روزانہ پیغام آتے رہتے ہیں اب کیا حال ہے کیا علاج کیا؟ اس سے کیا فائدہ ہوا؟ آئندہ کیا علاج کرانے کا ارادہ ہے؟ اس سے طبیعت گھبرا جاتی ہے ہے۔اور بعض دفعہ تو ملاقات میں یہ سلسلہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ ترشی سے بات ختم کرنا پڑتی ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح فرمایا کرتے تھے۔بندر کا زخم جلد اچھا نہیں ہوتا۔جب کسی بندر کو کوئی زخم ہو جاتا ہے تو دوسرے بندر آکر زخم میں انگلی ڈال ڈال کر دیکھتے ہیں۔جس سے زخم بڑھ جاتا ہے ہے اور زخمی بندر چڑ جاتا ہے اور پھر بھاگ کر جنگل کے کسی کونے میں چلا جاتا ہے۔بہر حال بار بار ایک ہی قسم کے سوال سے طبیعت چڑ جاتی ہے۔میری طبیعت تو بچپن سے کمزور ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی وفات سے دس پندرہ دن پہلے ہے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بلایا اور فرمایا ذرا محمود کو دیکھئے۔مجھے تو اپنی صحت سے زیادہ اس کی صحت کا خیال ہے۔میری اُس وقت ایسی حالت تھی کہ عام طور پر یہ خیال کیا جا تا تھا کہ میری عمر تمیں پینتیس سال سے زیادہ نہیں ہوگی۔لیکن خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ میں اب اس سے قریباً دگنی عمر کو پہنچ چکا ہوں۔طبیعت اگر چہ کمزور ہی رہتی ہے۔کبھی کوئی تکلیف ہو جاتی ہے اور کبھی کوئی تکلیف۔لیکن پھر بھی اتنی عمر تک پہنچ چکا ہوں۔یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔ہمارے ایک غیر احمدی دوست تھے بعد میں وہ احمدی ہو گئے۔وہ احمدی ہونے سے چار پانچ سال پہلے قادیان آیا کرتے تھے۔وہ جب بھی قادیان آتے مجھے ملنے کے لیے ضرور آتے۔اور جب بھی آتے مجھے کھانسی یا کوئی اور تکلیف ہوتی۔ایک دن کہنے لگے آپ کو اتنی کھانسی ہے آپ جلسہ پر تقریر کیسے کریں گے؟ لیکن جب تقریر کی تو وہ چھ گھنٹے کی لمبی تقریر ہو گئی۔دو تین سال بعد وہ دہلی کی جماعت کے ساتھ مجھے ملنے آئے تو کہنے لگے میں ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا تھا