خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 278

$1953 278 خطبات محمود چیزوں کی تصویر لے لیتے ہیں۔چنانچہ ایسے کیمرے بھی پائے جاتے ہیں جو ایٹم کے بخارات کی تصویر لے لیتے ہیں۔حالانکہ ایٹم کے بخارات ایک سیکنڈ میں دس دس پندرہ پندرہ میں چلے جاتے ہی ہیں۔ان بخارات کی تصویریں لینے کے لیے خاص قسم کے کیمرے ایجاد کیے گئے ہیں۔ان کی تصویروں کے ذریعہ ہی سائنسدان ایٹم کی تحقیقات کے سلسلہ میں بعض اور باتوں کا پتا لگاتے ہیں۔پس چونکہ تمہارے پاس وہ آلہ نہیں ہوتا جس کے ذریعے تم چھوٹے سے چھوٹے وقفہ کا اندازہ لگاتی سکو اس لیے تم سمجھتے ہو کہ چھونے اور پکڑنے اور اس کا احساس کرنے میں کوئی وقفہ نہیں ہوتا۔حالانکہ چھوٹے سے چھوٹا کام بھی بتدریج ہوتا ہے۔اگر تمہارے پاس وقفہ معلوم کرنے کا آلہ ہوتا تو تمہیں معلوم ہوتا کہ جب تم کسی چیز کو ہاتھ لگاتے ہو تو اُس کا فیصلہ پہلے دماغ نے کیا تھا۔پھر وہ فیصلہ ہاتھ کو گیا۔اور اُس نے اُس چیز کا احساس کیا۔لیکن چونکہ یہ بات جلدی ہو جاتی ہے اس لیے تمہیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔پس ہر چیز میں ایک تدریج پائی جاتی ہے۔اور ایک کے بعد دوسرا اور کی دوسرے کے بعد تیسرا، تیسرے کے بعد چوتھا اور چوتھے کے بعد پانچواں قدم اٹھ رہا ہے۔یا مثلاً تم کھانا کھاتے ہو تم منہ میں لقمہ ڈالتے ہو۔لیکن صرف منہ میں لقمہ ڈالنے سے کھانا ہضم نہیں ہوتا۔اگر محض منہ میں لقمہ ڈالنے سے ہی تمہیں غذا کا فائدہ حاصل ہو جاتا تو خدا تعالیٰ دانتوں کو پیدا نہ کرتا۔لقمہ منہ میں ڈالنے کے بعد دانتوں سے اُسے چبایا جاتا ہے۔پھر اگر صرف دانتوں سے چبانے سے ہی ہم غذا سے فائدہ اٹھا لیتے تو خدا تعالیٰ معدہ پیدا نہ کرتا۔پھر غذا معدہ کی میں جاتی ہے اور معدہ مدہانی کی طرح کام کرتا ہے۔جس طرح ہم کسی برتن میں دہی ڈال کر اُسے مدہانی سے بلو تے ہیں اسی طرح معدہ غذا کو ہلاتا ہے۔تم یہ مجھ لوکہ کھا نا دودھ ہے، دانت اُسے دہی بناتے ہیں اور معدہ اُس دہی کو مدہانی کی طرح پتلا کرتا ہے۔پھر وہ پتلی کی ہوئی غذا انتڑیوں میں جاتی ہے اور انتڑیاں اُسے ہضم کرتی ہیں۔پھر آگے انتڑیوں کے تین حصے ہوتے ہیں۔لیکن اگر تم انہیں ایک چیز ہی سمجھ لو تب بھی ایک لقمہ جو منہ میں ڈالا گیا چوتھی جگہ جا کر ہضم کے قابل ہوا۔اگر وہ لقمہ کسی ایک ہی جگہ رکھ دیا جائے تو انسان مر جائے۔انسان کا معدہ نکال دیا جائے یا اس کی انتڑیاں نکال دی جائیں تو انسان مر جائے یا اس کی زندگی و بال ہو جائے۔اگر لقمہ والی غذا معدہ میں ڈالی جائے۔منہ میں نہ ڈالی جائے تو انسان مر جائے۔یہی وجہ ہے کہ سوائے دودھ کے کوئی