خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 279

$1953 279 خطبات محمود غذا معدہ میں داخل نہیں کی جاتی۔کیونکہ معدہ غذا چبانے کا کام نہیں کر سکتا۔پس غذا ہضم ہو۔کے لیے بھی خدا تعالیٰ نے بعض مدارج مقرر کیے ہیں۔اسی طرح روحانی غذا کے ہضم ہونے کے لیے بھی کچھ مدارج ہیں۔یہاں بھی منہ اور معدہ اور انتڑیاں ہوتی ہیں جن میں غذا آہستہ آہستہ ہضم ہوتی ہے۔جو لوگ اس نقطہ کو نہیں سمجھتے وہ اپنی عمر ضائع کر دیتے ہیں اور وہ صحیح فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔مسلمان کی زندگی کا دارو مدار قرآن کریم پری ہے۔قرآن کریم ایک غذا ہے جس پر ہمارا گزارہ ہے۔آگے غذا کی کئی شکلیں ہیں۔مثلاً آئے سے روٹی بناتے ہیں۔سوکھا آٹا پھانک نہیں جاتا۔آئے کو گوندھا جاتا ہے اور پھر اُسی سے پراٹھے ، پھلکے اور تنور کی روٹیاں بنائی جاتی ہیں۔اسی طرح آئے سے تم پنجیری بنا لیتے ہو۔گویا تم اس آئے کوئی ہے شکلوں میں تبدیل کرتے ہو تب جا کر وہ کھانے کے قابل ہوتا ہے۔اسی طرح قرآن کریم کی غذا کئی شکلوں میں تبدیل ہو گئی ہے۔کہیں یہ غذا نماز کی شکل اختیار کر گئی ہے۔کہیں یہ روزہ کی شکل اختیار کر گئی ہے، کہیں یہ حج کی شکل اختیار کر گئی ہے، کہیں یہ زکوۃ کی شکل اختیار کر گئی ہے۔گویا کہیں یہ پکوڑے بن گئی ہے، کہیں پر اٹھا بن گئی ہے، کہیں پنجیری بن گئی ہے، کہیں گلگلے بن گئی ہے۔مگر ہے وہی چیز۔لیکن ان چیزوں کا بن جانا کافی نہیں جب تک ہم انہیں چبائیں نہیں ، انہیں نگلیں نہیں۔جب وہ غذا معدہ اور انتڑیوں کے دور سے نہ نکلے اس سے فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔اس لیے میں نے " ذہنی جگالی" کی ایک اصطلاح بنائی ہوئی ہے۔یعنی بغیر " ذہنی جگالی " کے روحانی غذا ہضم نہیں ہوتی۔ایک جانور معدے سے چارہ نکالتا ہے، پھر اسے چباتا ہے۔کیونکہ اُس کے معدے میں اتنا سامان نہیں ہوتا کہ وہ چارہ کو ہضم کرے۔اور چونکہ معدہ اُس غذا کو ہضم نہیں کرتا اس لیے وہ پہلے جلدی جلدی چارہ کھا لیتا ہے۔اور جب کھرلی پر بیٹھتا ہے تو وہ جگالی کرتا ہے۔کیونکہ ایک جانور چوبیس گھنٹے تک خوراک جنگل میں نہیں کھا سکتا ہے۔اس لیے وہ جلدی جلدی خوراک کھاتا جاتا ہے۔لیکن جب گھر لی پر آتا ہے تو پہلے ایک لقمہ نکالتا ہے اور جگالی کرتا ہے اور اُسے خوب چباتا ہے ہے۔پھر ایک اور لقمہ نکالتا ہے اور اُسے چباتا ہے۔اور پھر ایک اور لقمہ نکالتا ہے اور اُسے چباتا ہے۔اسی طرح روحانی جگالی کی کیفیت ہوتی ہے۔جو شخص قرآن کریم پڑھ لیتا ہے یا اس کی تلاوت کر لیتا ہے قرآن کریم اُسے ہضم نہیں ہوتا۔اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک جانور گھاس کھاتا