خطبات محمود (جلد 34) — Page 269
$1953 269 خطبات محمود نہیں ہے۔اس پر وہ صف چیر کر پہلی صف میں امام کے پیچھے آجاتا اور سمجھتا کہ اب اس کی نیت ٹھیک ہوگی اور وہ کہتا " چار رکعت نماز پیچھے اس امام کے " لیکن پھر یہ خیال آجاتا کہ پتا نہیں ان الفاظ کا اشارہ امام کی طرف ہے یا میری انگلی دائیں بائیں ہوگئی ہے۔اس پر وہ امام کی طرف ہاتھ بڑھا کر انگلی سے اشارہ کرتا اور کہتا چار رکعت نماز پیچھے اس امام کے " لیکن پھر یہ خیال کرتا کہ شاید اشارہ ٹھیک طرح نہ ہوا ہو۔صرف کپڑوں کی طرف اشارہ ہوا ہو اس پر وہ انگلی امام کے جسم میں چھوتا اور کہتا " چار رکعت نماز پیچھے اس امام کے " لیکن پھر یہ سمجھتا کہ شاید انگلی پوری طرح امام کے جسم کو چھوٹی نہیں۔اس پر وہ امام کو زور سے انگلی مارتا اور کہتا " چار رکعت نماز پیچھے اِس امام کے " اس طرح وہ اپنی نماز بھی خراب کر دیتا اور امام کی بھی۔تو یہ حد سے آگے نکل جانے والی بات ہے۔بے شک قرآن کریم سمجھنا ضروری ہے مگر جو شخص قرآن کریم نہیں سمجھتا اُسے قرآن کریم کے ترجمہ سے محروم تو نہ کرو۔میرے نزدیک علماء نے یہ بہت بڑی غلطی کی کہ انہوں نے ترجمہ کو بالکل گرا دیا۔حالانکہ قرآن کریم کا مفہوم سمجھنے کے لیے ترجمہ کا جاننا ضروری ہے۔عربی جاننا ناممکن امر نہیں۔لیکن فی الحال جہاں تک ہمیں ذرائع حاصل ہیں اگر سارے مسلمان بھی عربی بولنے لگ جائیں تو ہمارا تجربہ یہی ہے کہ ابتدائی زبان کا جاننا مفہوم کو اتنا قریب نہیں کرتا کہ انسان بولتے ہی مفہوم سمجھ جائے۔بہت کم آدمی ایسے ملیں گے جو مثلاً الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ بولنے سے اس کا مفہوم سمجھ جائیں۔پورا مفہوم ی سمجھنے کے لیے انہیں اس کا ترجمہ کرنا پڑتا ہے۔جس طرح ہم کسی بات کا مفہوم اردو میں سمجھ سکتے ہیں۔غیر زبان میں نہیں سمجھ سکتے۔ایک عرب اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کہے گا تو فوراً اُس کے ذہن میں اس کا مفہوم آ جائے گا۔لیکن پاکستانی خواہ عربی بولنا جانتے بھی ہوں اس کا مفہوم فورا نہیں سمجھ سکیں گے۔انہیں اس کا مفہوم سمجھنے کے لیے اس کا ترجمہ کرنا پڑے گا۔إِلَّا مَا شَاءَ اللہ جو شخص عربی زبان پر قادر ہو جائے وہ ایسا کر سکتا ہے۔لیکن یہ مہارت کافی مشق سے حاصل ہوتی ہے۔یہی حال باقی زبانوں کا ہے۔اگر تم انگریزی بولنے کی عادت ڈالو گے تو تمہیں فقرے کا ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔اس کے لیے انگریزی زبان سیکھنے میں ترجمہ کی عادت نہیں ڈالی جاتی۔عربی میں اس خیال سے کہ قرآن کریم آجائے شروع سے ترجمہ کی عادت ڈالی جاتی ہے اور بعد میں اس سے ہٹانا مشکل ہوتا ہے۔اب تو یہ زمانہ آ گیا ہے کہ استادوں کی توجہ اس طرف سے ہٹ گئی ہے کہ بچہ کو "الف" پر زیر "ب "ساکن پڑھایا جائے۔