خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 268

$1953 268 خطبات محمود بخاری شروع کی تو الاعْمَالُ بِالنِيَّات 2 کی حدیث سے کی۔مقلدوں نے بھی کہا ہے کہ جب تم نمازی کے لیے کھڑے ہو تو چار رکعت نماز ظہر کی یا دورکعت نماز جمعہ کی ذہن میں لاؤ تا تمہارا ذہن عبادت کے ساتھ چلنے کے لیے تیار رہے۔غرض نیت انسان کے اندر بڑا بھاری تغیر پیدا کرتی ہے۔نیت کو اڑاتی دیں تو ہمارا عمل یقیناً کمزور پڑ جاتا ہے۔لیکن نیست پر غیر معمولی زور بھی درست نہیں ہو سکتا۔نیت پر بھی غیر معمولی زور دیں تو یہ حماقت کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔ہم اگر اسلام اور قرآن کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اُس ذریعہ کو اختیار کرنا چاہیے جو اس کے سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ہمیں وہ طریق اختیار کرنا چاہیے جس سے اس کے معنے ہماری سمجھ میں آجائیں۔ورنہ اگر ہم وہ ذریعہ اور طریق چھوڑ دیں گے تو لازمی بات ہے کہ ہم صحیح مفہوم سمجھنے پر قادر نہیں ہوں گے۔پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ قرآن کریم کے ترجمہ کو ضروری قرار دے۔بلکہ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ اگر ہماری جماعت کے افراد یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم نے کسی ایسے لڑکے کو اپنی لڑکی نہیں دینی جو قرآن کریم نہ پڑھ سکتا ہو یا ہم فلاں لڑکی اپنے لڑکے کے لیے نہیں لیں گے کیونکہ وہ قرآن کریم پڑھنا نہیں جانتی۔تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔اس طرح ایک بھاری تغیر پیدا ہوسکتا ہے۔اب بھی اگر پوچھا جائے کہ کتنے نو جوان قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہیں؟۔تو مجھے شبہ ہے کہ نصف کے قریب ایسے نوجوان یہاں بھی ہوں گے جو قرآن کریم کا ترجمہ نہیں جانتے۔اور اس کی ساری ذمہ داری اُن لوگوں کی ہے جنہوں نے قرآن کریم کے الفاظ پر اتنا غیر ضروری زور دے دیا جیسے اُس لطیفہ والے کے متعلق مشہور ہے جو نماز سے پہلے " چار رکعت نماز پیچھے اس امام کے " کہنا ضروری سمجھتا تھا۔احادیث میں بھی آتا ہے کہ نماز کے لیے نیت ضروری ہے 3 اس سے ذہن عبادت کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔لیکن اس شخص نے اس چیز کو حماقت کی حد تک پہنچادیا تھا۔وہ جب " چار رکعت نماز پیچھے اس امام کے " کہتا تھا تو ہے بعض دفعہ وہ کسی صف میں ہوتا اور بعض دفعہ کسی صف میں۔بعض دفعہ وہ پہلی صف میں ہوتا۔اور بعض دفعہ دوسری یا تیسری صف میں ہوتا۔جب وہ تیسری صف میں ہوتا اور نماز سے قبل نیت باندھتا کہ چار رکعت نماز پیچھے اس امام کے تو اُسے خیال آتا کہ میرے آگے تو ایک اور صف بھی ہے اس کی لیے میری نیت درست نہیں۔اس پر وہ صف چیر کر ایک صف آگے آجا تا اور پھر کہتا ” چار رکعت نماز پیچھے اس امام کے لیکن پھر یہ خیال کرتا کہ ابھی اس کے آگے اور لوگ ہیں اس لیے اُس کی نیت ٹھیک