خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 270

$1953 270 خطبات محمود لیکن پہلے بچہ کو اس طرح پڑھنے کی عادت ڈالی جاتی تھی۔پس جماعت کو قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔الفاظ کا ترجمہ کرنا چاہیئے۔مرکب فقرات کا ترجمہ کرنے کی عادت نہیں ڈالنی چاہیئے۔اس طرح مفہوم کا سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔انگریزی میں الفاظ کا ترجمہ کیا جاتا ہے عبارت کا نہیں اس لیے انگریزی عبارت کا مفہوم سمجھنا آسان ہوتا ہے ہے۔اگر عبارت کا ترجمہ کرنے کی عادت ڈالی جائے گی تو زبان نہیں آئے گی۔مثلاً الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کا ترجمہ نہیں کرنا چاہیے۔آل - حَمْدُ - لِلَّهِ - رَبِّ اور العَالَمِيْنَ کا ترجمہ سیکھیں تو پھر مفہوم صحیح طور پر مجھ میں آجاتا ہے۔مگر محض اس لیے کہ عبارت کا ترجمہ کرنے کی ابتداء سے ہی عادت ڈال دی جاتی ہے عبارت کا مفہوم وہ لوگ بھی نہیں سمجھ سکتے۔جو ابتدائی زبان جانتے ہیں۔ایسے لوگ بھی جب تک ٹھہر ٹھہر کر نہ پڑھیں عبارت کا مفہوم نہیں سمجھ سکتے۔ایسے لوگوں کے لیے بھی ترجمہ پڑھنا مفید ہوگا۔اگر آٹھ ، نو رکوع کے الفاظ پڑھ لیے جائیں اور پھر اُس کا ترجمہ پڑھ لیا جائے۔تو یہ امر زیادہ بہتر ہوگا۔بجائے اس کے کہ ہم عبارت کے ساتھ ساتھ ترجمہ کرتے جائیں۔باقی جو لوگ عربی زبان پر قادر ہو جاتے ہیں وہ عربی میں ہی سوچنے اور غور کرنے لگ جاتے ہیں۔میں اُن کا ذکر نہیں کرتا۔میں صرف اُن لوگوں کا ذکر کرتا ہوں جنہوں نے عربی زبان پوری طرح نہ پڑھی ہو۔صرف قرآن کریم کا ترجمہ پڑھا ہو۔ایسے لوگوں کے لیے اُردو کا ترجمہ پڑھنا ضروری ہے۔پس جماعت میں قرآن کریم کا اردو ترجمہ پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیئے۔ہر شخص جو اردو پڑھ سکتا ہے اُس سے پوچھو کہ کیا وہ قرآن کریم کا اُردو ترجمہ پڑھتا ہے؟ اگر نہیں تو اُسے اس طرف توجہ دلاؤ۔عربی الفاظ کی تلاوت بھی ضرور کرو مگر اس طرح کہ ایک ربع پڑھ لیا اور پھر اُس کا ترجمہ اردو میں پڑھ لیا۔عربی اس لیے پڑھنی چاہیے تا متن محفوظ رہے۔جو لوگ کتاب کی زبان کو بھول جاتے ہیں وہ لوگ تحریف سے واقف ہونے سے محروم ہو جاتے ہیں۔اگر کوئی شخص عربی عبارت نہ بھی جانے صرف ترجمہ پڑھتا ہو تو بھی عربی عبارت بار بار پڑھنے سے اُسے ایسا ملکہ ہو جائے گا کہ جب کوئی شخص اُس کی کے سامنے کوئی غلط مفہوم بیان کرے گا تو وہ کہہ دے گا یہ بات غلط ہے وہ کسی کے دھوکے میں نہیں آئے گا۔پس عربی کے الفاظ بھی پڑھنے چاہیں تا تحریف کی نگرانی ہو سکے۔لیکن جو لوگ قرآن کریم کو عربی میں نہیں سمجھ سکتے انہیں ترجمہ کے فائدہ سے محروم نہیں رکھنا چاہیے۔پس ہر احمدی کو یہاں بھی اور باہر بھی