خطبات محمود (جلد 34) — Page 317
$1953 317 خطبات محمود سنا ہے کہ اُس نے ایک بات کہی ہو اور سو سال کے بعد لوگ اُس کو درست سمجھنے لگ گئے ہوں؟ پاگل کی بات تو ہوا میں اُڑ جاتی ہے۔پس جب ایک شخص کو ہم پاگل کہتے ہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں کہ وہ دنیا کی عقل کے خلاف بات کرتا ہے۔اگر ہمارے پاس کوئی شخص آتا ہے اور وہ اس قسم کی پاگلا نہ باتیں کرتا ہے تو ہم کہتے ہیں یہ شخص پاگل ہے۔مثلاً ایک شخص ہمارے پاس آئے اور کہے میں بادشاہ ہوں اور سارے لوگ جانتے ہوں کہ وہ حقیقت میں بادشاہ نہیں تو لوگ اُسے پاگل کہتے ہیں۔یا مثلاً ایک شخص ہمارے پاس آتا ہے اور وہ کہتا ہے میں ہے ایم۔اے پاس ہوں حالانکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ وہ پرائمری پاس بھی نہیں تو لوگ کہتے ہیں یہ پاگل ہے۔کیونکہ اُس کی باتیں اس وقت کے معروف لوگوں کی رائے اور اُن کے علم کے خلاف ہوتی ہیں۔جب قرآن کریم نے کہا کہ نبیوں کو ہمیشہ پاگل کہا جاتا ہے تو اس کا یہی مطلب تھا کہ لوگ انہیں اس لئے پاگل کہتے ہیں کہ اُن کی باتیں ان کی رائے کے خلاف ہوتی ہیں۔لیکن جب اُن کی تعلیم پھیل جاتی ہے اور وہ جیت جاتے ہیں تو وہی معترض جو پہلے انہیں پاگل قرار دیا کرتا تھا کہتا ہے کہ یہ باتیں تو پھیلنی ہی تھیں۔یہ تو ساری عقلی با تیں ہیں۔گویا جب وہ دلائل دیں تو لوگ انہیں پاگل کہتے ہیں اور جب وہ جیت جائیں تو کہتے ہیں کہ یہ باتیں تو ہونی ہی تھیں۔یہ ایک دلیل ہے جو کسی نبی کی صداقت کے معلوم کرنے کے متعلق قرآن کریم نے دی ہے اور ہر شخص اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔لیکن بعض لوگ اس دلیل کا بھی غلط استعمال کرتے ہیں۔قادیان میں ایک شخص تھا جس نے اپنے جنون میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ میں نبی ہوں۔جماعت کے ایک دوست میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا ت میں اُسے سمجھاؤں؟ یہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ کی بات ہے۔میں نے کہا وہ تو پاگل ہے لیکن اگر تمہیں شوق ہے تو جاؤ۔چنانچہ وہ اُس کے پاس گئے۔جب واپس آئے تو وہ بہت گھبرائے ہوئے تھے؟ کہنے لگے اُس نے اپنی باتوں سے مجھے پریشان کر دیا ہے۔میں نے سے کہا تھا کہ تم پاگل ہو۔اس پر وہ کہنے لگا دیکھو ! یہی قرآن کریم کہتا ہے کہ ہر نبی کو لوگ پاگل کہا کرتے ہیں۔پس یہ بات تو میری سچائی کی علامت ہے۔میں نے اُسے کہا کہ تمہیں