خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 316

$1953 316 خطبات محمود یا وکیل ہوں یا کارخانہ دار ہوں تو ہمیں پتا لگتا ہے کہ وہ ڈاکٹر ، وکیل یا کارخانہ دار ہے۔اگر وہ ہمیں خود نہ بتائے تو ہمیں اُس کے ڈاکٹر ، وکیل اور کارخانہ دار ہونے کا پتہ نہیں لگ سکتا۔پس پہلا علم زبان سے ہوتا ہے۔ایک آدمی چاہتا ہے کہ میرے پاس جو روپیہ ہے۔اُسے میں کسی تجارت پر لگاؤں اور پاس ہی دوسرا آدمی شور مچا رہا ہوتا ہے کہ فلاں آدمی بے ایمان ہے۔اس نے فلاں کا مال لوٹ لیا، فلاں سے بددیانتی کی۔لیکن میں نے فلاں کو فائدہ پہنچایا ، فلاں کو فائدہ پہنچایا تو اس سے وہ روپیہ والا دھوکا میں آجائے گا اور اُ سے روپیہ دے دے گا۔لیکن اس کی کے بعد اُس کا روپیہ ضائع ہو جاتا ہے تو وہ چیختا ہے۔حالانکہ اُسے روپیہ دینے کے لیے کسی اور نے نہیں کہا تھا بلکہ وہ اپنی بے وقوفی اور سادگی کی وجہ سے خود وہاں پھنس گیا۔دوسرے نے اپنا سرٹیفکیٹ آپ دیا اور وہ مان گیا۔حالانکہ ہر بات کو سوچ سمجھ کر تسلیم کرنا چاہیے۔اور تو اور نبیوں کے متعلق بھی خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ہم نے ان کی صداقت کے اظہار کے لیے تمہارے پاس نشانات بھیجے ہیں تاکہ تمہیں پتا لگ جائے کہ یہ رسول جو ہماری طرف سے آنے کا دعویٰ کرتا ہے فی الواقع سچا اور راستباز ہے 2۔گویا ایسے اخلاق اور نمونہ والے لوگ جو نبوت سے پہلے ہی برگزیدہ سمجھتے جاتے ہیں اُن کے متعلق بھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو بے دلیل نہ مان لو۔وہ بھی اگر میری طرف سے آنے کا دعوی کریں تو اُن سے اُن کی صداقت کے دلائل طلب کرو۔گویا نبوت پر فائز ہونے والا اور دنیا میں اعلیٰ زندگی بسر کرنے والا بھی اگر کہتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں تو خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ تم نے اُسے یونہی نہیں مان لینا۔اُس سے اُس کی صداقت کی دلیل پوچھنی ہے۔اگر وہ اپنی صداقت کی دلیل دے تو اُسے مانو۔پھر خدا تعالیٰ خود دلیلیں بیان کرتا ہے۔کہتا ہے اُس کی صداقت کی فلاں دلیل ہے، فلاں دلیل ہے اور اس طرح انسان کو فیصلہ کرنے میں مدد مل جاتی ہے۔مثلاً قرآن کریم کہتا ہے کہ ہر نبی جو گزرا ہے لوگوں نے اُسے مجنون کہا ہے 3۔اب یہ نبیوں کی صداقت کی ایک دلیل ہے کہ اُن کی باتیں دنیا والوں کو غیر معقول نظر آتی ہیں اسی لیے وہ انہیں مجنون کہتے ہیں۔لیکن آئندہ زمانہ میں یہی اُس کی صداقت کی دلیل بن جاتی ہے۔کیونکہ مجنون کی بات دنیا میں پھیل نہیں سکتی ، مجنون کی بات پر دنیا عمل نہیں کر سکتی۔کیا تم نے کوئی پاگل