خطبات محمود (جلد 34) — Page 318
$1953 318 خطبات محمود کس نے کہا تھا کہ وہاں جاؤ ؟ اگر تمہارا علم اتنا کوتاہ ہے تو تم وہاں گئے ہی کیوں تھے پھر میں نے کہا قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ ہر نبی کو لوگ پاگل کہتے ہیں۔مگر یہ نہیں کہا کہ ہر پاگل کو نبی کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے نبوت کا پہلے ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ ہر نبی کو لوگ پاگل کہتے ہیں۔لیکن اسے تو ہم نے رسیاں پہلے باندھی تھیں اور نبوت کا اس نے بعد میں دعویٰ کیا ہے۔ڈاکٹروں نے اس کے متعلق کہا یہ پاگل ہے۔اور لوگوں نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ یہ کہیں لوگوں کو نقصان نہ پہنچائے چنانچہ ہم نے اسے رسیاں باندھ دیں۔اگر یہ شخص پہلے نبوت کا دعویٰ کرتا اور پھر لوگ اسے پاگل کہتے تو اس کا دعوی سچا ہوتا۔لیکن یہاں تو یہ حال ہے کہ پہلے لوگوں نے اسے پاگل کہنا شروع کیا۔اُس نے کہا میری نیند اڑ گئی ہے اور حضرت خلیفہ اول نے اُسے برومائڈ (BROMIDE) وغیرہ دیا اور علاج کیا۔پھر اُس نے جنون کی حالت میں یہ کہنا شروع کر دیا میں نبی ہوں۔پس یہاں گھوڑا آگے نہیں، گاڑی آگے ہے اور گھوڑا پیچھے ہے۔پس دعویٰ تو ہر شخص کر لیتا ہے لیکن ہر بات دلیل کے ساتھ ثابت کی جانی چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے لیے بھی دلائل رکھے ہیں۔لیکن لوگ ان کے سمجھنے میں پھر بھی غلطی کر جاتے ہیں۔جیسے اس شخص نے کہا کہ لوگ مجھے پاگل کہتے ہیں اس لیے میں سچا ہوں۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ ہر پاگل کو نبی کہا جاتا ہے بلکہ اُس نے یہ کہا ہے کہ ہر نبی کو پاگل کہا جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے انبیاء کی صداقت کے بھی دلائل دیئے ہیں۔اور ان کے ماننے کو ان دلائل سے وابستہ کیا ہے۔پھر دنیوی معاملات میں تم کسی کی بات کو بے دلیل کیوں مانتے ہو۔بسا اوقات انسان کا قول و فعل ایک نہیں ہوتا۔اور جو شخص ایسا ہوتا ہے اُس کو دنیا میں کوئی پوزیشن اور درجہ حاصل نہیں ہوتا۔اور خدا تعالیٰ کے نزدیک بھی اُسے عزت نہیں ملتی۔اور جب کسی دوسرے کا بلا دلیل دعوی کرنا اُسے قابل عزت نہیں بنا دیتا تو اگر یہی بات تم میں ہو تو تمہاری عزت کس طرح ہو سکتی ہے۔اگر یہ چیز غیر میں بُری ہے تو تم میں بھی بُری ہے۔اگر چوری کرنا زید کے لیے بُرا ہے تو تمہارے لیے بھی بُرا ہے۔اگر جھوٹ بولنا زید کے لیے بُرا ہے تو تمہارے لئے بھی برا ہے۔پس تم اپنی زندگی میں غور کرو کہ کیا تمہارے اعمال اور اقوال