خطبات محمود (جلد 34) — Page 253
$1953 253 خطبات محمود جب رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ادنیٰ سے ادنی درجہ نماز کا یہ ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ خدا اُسے دیکھ رہا ہے تو اس کے معنے یہی ہیں کہ اسے یہ یقین کامل حاصل ہونا چاہیے کہ میری نماز اتنی درست ہے کہ اب میرے ساتھ کوئی شخص ایسا سلوک نہیں کر سکتا جسے خدا نظر انداز کر دے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا کہ إِنِّي مُعِيُنٌ مَنْ أَرَادَ إِعَانَتَكَ وَانّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ إِهَانَتَك 4 جو شخص تیری مددکا ارادہ کرے گا میں اس کی مددکروں گا اور جو شخص تیری اہانت کا ارادہ کرے گا میں اس کی اہانت کروں گا۔گویا اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیکی اور بدی دونوں کا رد عمل ظاہر ہو جاتا ہے۔اور وہ اپنے بندے سے نیکی کرنے والے کی نیکی کو ضائع نہیں ہونے دیتا، اور نہ اپنے بندے کے ساتھ برائی کرنے والے کی برائی کو نظر انداز کرتا ہے۔اگر کوئی اُس سے نیکی کرتا ہے تو وہ اُس سے بڑھ کر اُس کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے اور اگر کوئی اُس کے ساتھ بدی کرتا ہے تو وہ اُس سے بڑھ کر اس کے ساتھ بُرا سلوک کرتا ہے۔اور یہ ادنی درجہ ہے جو رسول کریم ﷺ کے ارشاد کے مطابق ہر مومن کو حاصل ہونا چاہیے۔اس کے بعد رسول کریم ﷺ نماز کے اعلی درجہ کی طرف مومنوں کو توجہ دلاتے ہیں اور فرماتے ہیں۔اصل مقام یہ ہے کہ تو نماز پڑھتے وقت یہ سمجھے کہ میں خدا کو دیکھ رہا ہوں۔یہاں بھی گانگ تَرَاہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔اب اس کے بھی یہ معنے نہیں ہو سکتے کہ تو فرض کرے کہ میں خدا کو دیکھ رہا ہوں۔کیونکہ یہ جھوٹ بن جاتا ہے۔اول تو جو چیز ہے ہی نہیں اُس کے متعلق کسی نے سمجھنا ہی کیا ہے۔اور اگر کوئی ایسا کمزور دل ہو جو اپنے دل پر بار بار یہی اثر ڈالنے کی کوشش کرے کہ میں خدا کو دیکھ رہا ہوں تو اس کا فائدہ کیا ہوسکتا ہے۔پس گانگ تَرَاهُ کے یہ معنے تو نہیں ہو سکتے کہ تو یہ فرض کر لے کہ تو خدا کو دیکھ رہا ہے۔در حقیقت اس کے معنے یہ ہیں کہ پہلا مقام حاصل ہو جانے کے بعد مومن ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔کہ اللہ تعالیٰ کے اعمال کی حقیقت اس پر واضح ہو جاتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے سلوک اور اس کے نشانات کو اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لیتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم زمین و آسمان میں اپنے کتنے ہی نشانات ظاہر کرتے ہیں مگر لوگ ان نشانات پر سے آنکھیں بند کر کے گزر جاتے ہیں۔وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ 5 اور وہ ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔اس کیفیت کے بالکل الٹ ایک مومن کو جب اعلیٰ درجہ کا