خطبات محمود (جلد 34) — Page 252
$1953 252 خطبات محمود یہی سمجھتے ہیں کہ خدا انہیں دیکھ رہا ہے۔لیکن ایک کا تصور محض وہم پر مبنی ہوتا ہے جو جھوٹ بھی ہوسکتا ہے۔اور دوسرا یقین کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہوتا ہے۔ایک کو بڑی آسانی کے ساتھ متزلزل کیا تو جاسکتا ہے۔اور دوسرا شخص جو اپنے اندر کامل یقین پیدا کیے ہوئے ہوتا ہے اُسے دنیا کی کوئی طاقت متزلزل نہیں کر سکتی۔پس رسول کریم ہے کے اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں کہ گو یہ واقعہ تو نہیں کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے مگر تم نماز پڑھتے وقت یہ تصور کر لیا کرو کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ نماز کا ادنی درجہ یہ ہے کہ انسان اس یقین کامل پر قائم ہو جائے کہ خدا اُسے دیکھ رہا ہے۔یہاں دیکھنے کے عام معنی تو ہو نہیں سکتے کیونکہ وہ کا فرکو بھی دیکھ رہا ہے اور مومن کو بھی دیکھ رہا ہے ، عیسائی کو بھی دیکھ رہا ہے اور ہندو کو بھی دیکھ رہا ہے، نماز پڑھنے والے کو بھی دیکھ رہا ہے اور نماز نہ پڑھنے والے کو بھی دیکھ رہا ہے۔ایسی صورت میں ایک نماز پڑھنے والا بھی اگر یہ سمجھ لیتا ہے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے تو اس میں اسے کوئی خصوصیت حاصل نہیں ہوسکتی۔کیونکہ خدا جس طرح اُسے دیکھ رہا ہے اُس طرح ایک کافر اور منافق کو بھی دیکھ رہا ہے۔خصوصیت اُسے تبھی حاصل کی ہو سکتی ہے جب دیکھنے کے بھی اور معنے لیے جائیں۔اور وہ معنے ” حفاظت اور مدد کرنے کے لیے اس کی طرف متوجہ ہونے کے ہیں۔جیسے قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ ایک دوسرے مقام پر رسول کریم ﷺ کی نسبت فرماتا ہے کہ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ 3 پس تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور چاہیے کہ جب تو ( نماز کے لیے ) کھڑا ہو تو ہماری تسبیح کیا کر۔اب آنکھوں کے سامنے ہونے کا یہ مطلب تو نہیں کہ رسول کریم ﷺ تو خدا تعالیٰ کی آنکھوں کے سامنے تھے لیکن رسول کریم ﷺ کا دشمن خدا تعالیٰ کی آنکھوں کے سامنے نہیں تھا۔بلکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ تو ایسے مقام پر پہنچ گے ہے کہ اب ہم تیرا خاص خیال رکھتے ہیں۔کوئی تجھ کو چھیڑ نہیں سکتا ، کوئی تجھ پر حملہ نہیں کرسکتا، کوئی تجھے ذلیل اور رسوا نہیں کر سکتا ہے۔جیسے حفاظت کے لیے اگر کسی کی ڈیوٹی مقرر ہو تو وہ حملہ آور کو دیکھ کر چُپ نہیں رہ سکتا۔اسی طرح ہمارا تیرے ساتھ ایسا تعلق قائم ہو چکا ہے کہ اب ہم تجھ پر حملہ ہوتے دیکھ کر چُپ نہیں رہ سکتے۔دنیا میں بھی انسان جب کسی معاملہ میں دخل دینا مناسب نہیں سمجھتا تو آنکھیں پھیر لیتا ہے۔اور جب دخل دینا چاہتا ہے تو کہتا ہے " میں دیکھ رہا ہوں "۔بہر حال