خطبات محمود (جلد 34) — Page 254
$1953 254 خطبات محمود روحانی مقام حاصل ہوتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کا ہر نشان محسوس کرنے لگتا ہے اور اس کا ہر سلوک اسے اپنی آنکھوں سے نظر آنے لگتا ہے۔گویا پہلا مقام تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ نیکی کرنے کے والے کی نیکی کو نظر انداز نہیں کرتا اور بدی کرنے والے کی بدی کو نظر انداز نہیں کرتا اور وہ اپنے کی بندے کا نگہبان ہو جاتا ہے۔مگر یہ مقام ابھی ناقص تھا کیونکہ اگر خدا تو کسی کے ساتھ حسن سلوک کرے لیکن بندہ کو وہ سلوک نظر نہ آئے تو اللہ تعالیٰ کے اس سلوک کا رد عمل مکمل نہیں ہوگا۔قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم بعض لوگوں کو اپنے خاص فضل سے ترقی دیتے ہیں۔مگر جب انہیں ترقی حاصل ہو جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْم - 6-ہم نے اپنے زور سے یہ ترقی حاصل کی ہے۔ہم بڑے لائق تھے۔ہم بڑے قابل تھے۔ہم نے جدو جہد کی اور یہ ترقی حاصل کر لی۔گویا خدا تعالیٰ تو ان پر احسان کرتا ہے مگر وہ اس احسان کو دیکھنے کی قابلیت نہیں رکھتے۔پس پہلا درجہ تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اُس کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے سے نیک سلوک کرتا ہے اور بدسلوک کرنے والے سے بُرا سلوک کرتا ہے۔لیکن اگر اس نے خدا تعالیٰ کے اس کی سلوک کو نہیں دیکھا تو خدا تو اس کے ساتھ یہ سلوک کر دے گا۔لیکن اس کے مقابل میں خود اس کے اندر جور د عمل پیدا ہونا چاہیئے تھا وہ پیدا نہیں ہوگا۔انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ جب و کسی کے سلوک کو پہچانتا نہیں تو اسکے متعلق بدظنی سے کام لینے لگ جاتا ہے۔وہ تاریخوں میں برمکہ Z کے زمانہ کا واقعہ آتا ہے کہ ایک شخص جو ایک برمکی وزیر کا دوست تھا اور ان دونوں کے آپس میں گہرے تعلقات تھے اُسے بعض قرضوں کی ادائیگی اور دوسری ضروریات کے لیے کچھ روپیہ کی ضرورت پیش آگئی۔وہ اپنے دوست کے پاس گیا اور اُس کے سامنے اُس نے ضرورت پیش کی۔مگر اس نے کوئی توجہ نہ کی۔اور وہ سخت مایوس اور بد دل ہوکر واپس آ گیا اور اس نے سمجھا کہ یہ بڑے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ظاہر میں اپنی دوستی اور محبت کی کا اظہار کرتے ہیں مگر وقت آنے پر منہ پھیر لیتے ہیں۔حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اس برمکی وزیر نے ی جب اپنے دوست کو اس حالت میں دیکھا تو اُس نے فوری طور پر اُس کو مدد دینے کا فیصلہ کر لیا۔مگر اُسے خیال آیا کہ اگر میں لوگوں کے سامنے اسے کچھ دوں گا تو یہ شرمندہ ہوگا کہ میں آج اس حالت کو پہنچ چکا ہوں کہ مجھے اپنی ضروریات کے لیے مانگنا پڑا ہے۔چنانچہ وہ اُس وقت خاموش رہا اور