خطبات محمود (جلد 34) — Page 206
$1953 206 خطبات محمود کہتے رہے۔آخر سات سال گزرنے پر اُسے خیال آیا کہ میں نے تو اپنی عمر بر باد کر دی۔جس چیز کو حاصل کرنے کے لیے میں نمازیں پڑھتا رہا وہ اب تک مجھے حاصل نہیں ہوئی۔میں چاہتا ہے تھا کہ لوگوں میں ولی مشہور ہو جاؤں مگر لوگ مجھے منافق اور ریاء کار کہتے رہے۔اب میں اس کی بے ایمانی کو چھوڑتا ہوں اور خالص اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت کرتا ہوں۔چنانچہ وہ جنگل میں چلانی گیا۔اس نے وضو کیا اور پھر نماز میں کھڑے ہو کر اللہ تعالی سے دعا کی کہ الہی ! اتنے عرصہ تک میں نے بناوٹی ولی بننے کی کوشش کی۔مگر نہ میں بناوٹی ولی بنا اور نہ ہی مجھے تو ملا۔اب دنیا والے مجھے جو چاہیں کہیں مجھے ان کی پروانہیں میں صرف تیری رضا کے لیے عبادت کروں گا اور صرف تجھ سے تعلق رکھوں گا۔اس کے بعد وہ مسجد میں آیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے سچے دل سے عبادت شروع کر دی۔ابھی اُس کے اس عزم پر چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ لوگ اس کی طرف انگلیاں اٹھا کر اشارہ کرنے لگے کہ یہ تو بڑا بزرگ ہے۔اس کے چہرے سے تو خدا تعالیٰ کا نور ظاہر ہوتا ہے تو جب کوئی خدا کا ہو جائے تو لوگ اُسے تبلیغ سے خواہ کتنا روکیں آپ ہی آپ تبلیغ ہوتی چلی جاتی ہے۔کیونکہ اس کا منہ بتا رہا ہوتا ہے کہ اُس پر خدائی نور چمک رہا ہے۔لوگ ایک دوسرے کو اُس کی طرف آنے سے روکتے ہیں۔مگر خدا آپ لوگوں کے دلوں میں تحریک کرتا ہے اور انہیں ہدایت کے قبول کرنے کے لیے کھینچ کر لے آتا ہے۔اور جب خدا کسی کو آپ تحریک کرے تو اور کون ہے جو اُ سے روک سکے۔یہ لوگ زید کو کہہ سکتے ہیں کہ تم کسی کومت تبلیغ کرو اور زید اس ہدایت کی پابندی کرے گا۔لیکن جب خدا کسی سے کہے گا کہ جا اور زید سے جا کر پوچھ کہ یہ کیا بات ہے؟ تو وہ اُس شخص کو زید کے پاس آنے سے کس طرح روک سکیں گے۔وہ تو کہے گا کہ مجھے خدا نے تمہاری طرف بھیجا ہے میں اُس وقت یہاں سے نہیں بلوں گا جب تک میں تم سے بیہ دریافت نہ کرلوں کہ وہ کیا چیز ہے جو تم دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہو۔دنیا میں کوئی انسان ساری دنیا پر حکومت نہیں کر سکتا۔وہ اُس کے صرف ایک حصہ پر حکومت کر سکتا ہے ، وہ اس کے صرف ایک ٹکڑے پر حکومت کر سکتا ہے۔وہ ایک وقت کے لیے ساری دنیا کی کچھ چیزوں پر بھی حکومت کر سکتا ہے۔لیکن ساری دنیا میں ساری چیزوں پر ہمیشہ۔لیے صرف خدا ہی کی حکومت ہوتی ہے۔کسی یورپین فلاسفر نے یہ ایک نہایت ہی کچی بات کہی ہے