خطبات محمود (جلد 34) — Page 205
$1953 205 خطبات محمود روپیہ ٹھیکہ پر چڑھے ہیں۔تحریک جدید کا سندھ میں چار سو مربع ہے۔اس لحاظ سے اسے بارہ لاکھ سالانہ کی آمدن ہونی چاہیے۔لیکن ان زمینوں نے صرف پچھلے دوسالوں میں ایک لاکھ روپیہ دیز شروع کیا ہے۔غرض پنجاب اور سندھ کی زمینوں کا آپس میں کوئی مقابلہ ہی نہیں۔وہاں بعض دفعہ ایک ایک مربع پانچ پانچ سات سات ہزار روپیہ پر بھی چڑھ جاتا ہے۔اگر پانچ ہزار روپیہ پر یہاں بھی ایک مربع چڑھے تو تحریک جدید کو بیس لاکھ روپیہ اور سات ہزار پر چڑھے تو اٹھائیں لاکھ روپیہ ملنا چاہیے۔مگر ہمیں صرف ایک لاکھ روپیہ ملتا ہے۔پس جہاں تک آمد کا سوال ہے یہاں کی زمینوں کی آمد پنجاب کی آمد کے پاسنگ بھی نہیں۔بلکہ پنجاب کی آمد کے مقابلہ میں بیسواں حصہ بھی نہیں۔جتنی زمین سے وہاں ہیں روپے کمائے جاتے ہیں اتنی زمین سے یہاں ایک روپیہ بھی نہیں کمایا جا سکتا ہے۔پس وہ دن تو ابھی دور ہے جب اس زمین سے ہمیں اس قدر نفع حاصل ہونا شروع ہو جائے کہ ہم دنیا کے گوشہ گوشہ میں اپنے تبلیغی مشن قائم کر سکیں۔لیکن ہم اتنا تو کر سکتے ہیں کہ اس نشان کی طرف لوگوں کو توجہ دلائیں اور انہیں بتائیں کہ اس زمانہ میں صرف احمدیت ہی خدا تعالیٰ کے زندہ نشانات کو پیش کرتی ہے۔اور اس کے ساتھ وابستگی انسان کے اندر حقیقی تقویٰ پیدا کرتی اور اس کا خدا تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کر دیتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سچائی کے لیے کسی بڑی نمائش کی ضرورت نہیں ہوتی۔سچائی انسان کے عمل سے ثابت ہو جاتی ہے۔اور خواہ کتنا ہی کسی کو دبایا جائے ، کتنا ہی کسی کو مٹایا جائے اگر اس کے دل میں نور ہو تو وہ کبھی چُھپ نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص کے دل میں ریا تھا اُس نے مسجد میں رات دن عبادت شروع کر دی تا کہ کسی طرح وہ لوگوں میں ولی مشہور ہو جائے۔لیکن باوجود سارا دن عبادت کرنے کے اور ہر وقت مسجد میں رہنے کے جب وہ باہر نکلتا تو لڑکوں نے اُس سے مذاق کرنا اور عورتوں نے بھی اس کی طرف کی انگلیاں اٹھا کر کہنا کہ یہ بڑا منافق انسان ہے۔اس کے دل کے کسی گوشہ میں بھی ایمان نہیں پایا جاتا۔محض ریاء کاری کے لیے نمازیں پڑھتا ہے۔یہاں تک کہ چھ سات سال گزر گئے وہ برا برای لوگوں میں بزرگ اور ولی مشہور ہونے کے لیے نمازیں پڑھتا رہا اور لوگ اُسے منافق اور ریاء کار