خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 207

$1953 207 خطبات محمود کہ تم دنیا کے ایک حصے کو ہمیشہ کے لیے دھوکا دے سکتے ہو، تم ساری دنیا کو کچھ دنوں کے لیے بھی دھوکا دے سکتے ہو۔لیکن تم ساری دنیا کو ہمیشہ کے لیے دھوکا نہیں دے سکتے۔جس طرح یہ ایک بہت بڑی سچائی ہے جو اُس نے بیان کی۔اسی طرح یہ بھی اس سے کم سچائی نہیں کہ انسان دنیا کے کچھ حصوں پر لمبے عرصہ کے لیے حکومت کر سکتا ہے۔انسان ساری دنیا پر کچھ دنوں کے لیے حکومت کر سکتا ہے۔لیکن سارے انسانوں پر اور ساری دنیا پر ہمیشہ کے لیے خدا کی ہی حکومت ہوتی ہے۔اس لیے کوئی سچائی نہیں جسے دنیا کی کوئی حکومت روک سکے۔کوئی سچائی نہیں جسے دنیا کی کوئی بادشاہت دبا سکے۔کیونکہ جب خدا کے قبضہ میں سب دل ہیں اور وہ خود انسانی قلوب پر قابض اور متصرف ہے اور وہ آپ کسی سے کہے کہ جاؤ اور اس ہدایت کو تسلیم کر لو تو کونسی چیز ہے جو اس کو ہدایت پانے سے روک سکتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے سنا کہ مکہ میں کسی شخص نے نبوت کا دعوی کیا تا ہے۔اُس نے اپنے بھائی سے کہا کہ جاؤ اور تحقیقات کر کے آؤ کہ یہ کیا بات ہے۔وہ مکہ میں آیا تو ہے قریش اور دوسرے بڑے بڑے سردار اس سے ملے اور اس سے پوچھا کہ تم مکہ میں کس طرح آئے ہو؟ اس نے کہا میں اس لیے آیا ہوں کہ اس شخص سے ملوں جس نے نبوت کا دعوی کیا ہے اور اس کی کے حالات دریافت کروں۔انہوں نے کہا کہ تم بھی عجیب آدمی ہو کہ اتنی دُور سے اُس کے حالات کی معلوم کرنے کے لیے آگئے۔وہ تو پاگل ہے اور اُس کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ہم اُس کے رشتہ داری ہیں اور اس کے حالات کو خوب جانتے ہیں۔وہ تو بڑا فریبی اور ٹھگ انسان ہے تم اس کے پاس جان کر اپنے وقت کو کیوں ضائع کرتے ہو۔تمہارے لیے یہی بہتر ہے کہ تم واپس چلے جاؤ۔چنانچہ وہ مکہ سے واپس آ گیا۔اُس کے بھائی نے اس سے پوچھا کہ سناؤ تم نے کیا تحقیقات کی ؟ اس نے کہا کہ وہ تو ایک ٹھگ اور فریبی انسان ہے۔بھائی نے کہا تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے؟ کیا تم خود اس شخص سے ملے تھے اور اس سے تم نے باتیں کیں تھیں ؟ اُس نے کہا میں تو نہیں ملا مگر مجھے اس کے رشتہ دار مل گئے تھے۔ان سے میں نے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ بڑا دھو کے باز انسان ہے۔اس لیے میں اس کے پاس گیا ہی نہیں۔اس کے بھائی کے دل میں تقویٰ تھا۔اُس نے جب یہ بات سنی تو اپنے بھائی کو ڈانٹا اور کہا کہ تجھے شرم نہیں آتی کہ تو نے دوسروں کی بات پر اعتبار