خطبات محمود (جلد 34) — Page 136
$1953 136 خطبات محمود اور وہ کہتے ہیں کہ ہم تو مر رہے ہیں اور یہ لوگ اشتہار لکھنے میں لگے ہوئے ہیں ، انہیں ہم سے کوئی ہمدردی نہیں۔لیکن اگر تم میں محبت ہو ، خدمت خلق کا مادہ ہو ، اگر لوگ بھو کے ہوں اور تم اُن کی روٹی کا فکر کرو تو سب لوگ تمہاری طرف متوجہ ہو جائیں۔مان لیا کہ ہم غریب ہیں لیکن ان کاموں میں ہمارا کچھ نہ کچھ دخل تو ہونا چاہیے۔ہم دیکھتے ہیں کہ احمدیت کے مخصوص مفاد سے تعلق رکھنے والی کوئی تحریک ہو تو جماعت کے لوگ اس کے میں کثرت سے چندہ دیتے ہیں۔لیکن اگر ملک کی کسی مصیبت کے لیے چندہ کا اعلان کیا جائے تو ی لوگ اُس کی طرف بہت کم توجہ کرتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عام مخلوق کی ہمدردی کا مادہ ہماری جماعت میں کم پایا جاتا ہے۔مثلاً فلسطین پر مصیبت آئی اور جماعت میں چندہ کی تحریک کی گئی تو دو سال کے عرصہ میں کل چار ہزار روپیہ چندہ ہوا۔لیکن اسی مسجد کے لیے میں نے ہیں پچیس ہزار روپے کی تحریک کی تھی لیکن چھپن ہزار روپیہ آ گیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسجد ایک اہم چیز ہے لیکن جب مسلمان تباہ ہو رہے ہوں تو اُن کی ہمدردی زیادہ ضروری ہوتی ہے ہے۔لیکن عموماً دیکھا گیا ہے کہ کوئی سیلاب آجائے یا کوئی اور تباہی آجائے تو جماعت میں جوش پیدا نہیں ہوتا کہ والنٹیئر جائیں اور لوگوں کی مصیبت میں مدد کریں۔لیکن اگر میں اعلان کر دوں کہ فلاں کتاب شائع ہو رہی ہے اُس کے لیے چندہ کی ضرورت ہے تو مطلوبہ رقم سے زیادہ چندہ جمع ہو جائے گا۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم کتاب کے لیے چندہ نہ دو۔لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ تم دوسری باتوں میں بھی حصہ لو۔کہتے ہیں دریا میں رہنا اور مگر مچھ سے ہیرے لوگوں میں رہنا اور اُن کا درد نہ رکھنا کتنی بڑی حماقت کی بات ہے۔بندوں میں رہنا ہو تو اُن کی خدمت کا جذبہ بھی رکھنا چاہیے۔اگر تم میں بیواؤں کی خدمت ، غرباء کی امداد ، اور تباہیوں میں تباہ حالوں کی خبر گیری کرنے اور اُن کے لیے چندے دینے کی عادت نہیں پائی جاتی تو تم میں کچھ بھی نہیں پایا جاتا۔تمہارا فرض ہے کہ تم مسلمانوں کی ہمدردی کے کاموں میں حصہ لو اور جو تحریکات سارے ملک کے ساتھ تعلق رکھتی ہوں اُن میں بھی شوق سے شامل ہونے کی کوشش کرو۔لیکن عموماً یہی ہے دیکھا گیا ہے کہ اگر ملک کی کسی مصیبت کے لیے چندہ کا اعلان ہو ، اگر اسلام کی مخصوص ضرورت کی ہو تو جماعت اُس طرف بڑی توجہ دیتی ہے۔اس نقص کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو ٹھو کر لگتی ہے