خطبات محمود (جلد 34) — Page 135
$1953 135 خطبات محمود کمزوروں کو پیش کر کے اچھے لوگوں کے اثر کو بھی دور کر دیتے ہیں۔مثلاً اگر کہیں سو احمدی ہیں اور دو نماز نہیں پڑھتے تو مخالف اُن دو احمدیوں کو پیش کر کے کہہ دے گا کہ احمدی بھی نمازیں نہیں پڑھتے۔پس تم اپنے اندر تغیر پیدا کرو۔ورنہ احمدی ہونے کا تمہیں فائدہ کیا۔تم تو احمدیت کو بد نام کرتے ہو۔اگر تم نماز کے پابند نہیں ، اگر تم روزہ نہیں رکھتے ، اگر تم زکوۃ نہیں دیتے ، اگر تم حج نہیں کرتے ، اگر تم میں دیانت نہیں پائی جاتی ، اگر تم میں حلال روزی کھانے کی عادت نہیں پائی جاتی تو احمدی ہونے کا فائدہ کیا۔یہی چیز ہے جو دوسرے لوگوں نے دیکھنی ہے۔لیکن تم اپنے اندر تغیر پیدا نہیں کرتے۔تم اپنی اولادوں کو نماز ، روزہ کی تلقین نہیں کرتے۔حالانکہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام اپنی اولاد کو نماز اور زکوۃ کی تحریک کیا تھی کرتے تھے۔لیکن تمہاری مساجد اتنی آباد نہیں ہوتیں۔جو لوگ اس وقت جمعہ کے لیے یہاں کی بیٹھے ہیں ان لوگوں کو ربوہ کی تمام مساجد میں پھیلایا جائے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ اتنے آدمی مساجد میں روزانہ آتے ہیں؟ اگر ربوہ میں دس مساجد ہیں تو کیا ان لوگوں کا دسواں حصہ ہر مسجد میں حاضر ہوتا ہے؟ یہ غلطیاں ایسی ہیں جو دوسروں کے لیے ٹھوکر کا موجب ہوتی ہیں۔اب رمضان آیا ہے تم اتنی تو کوشش کرو کہ تمہیں اس ماہ میں فرائض کی طرف توجہ پیدا ہو جائے۔آخر خدا تعالیٰ کی نے اسلام کو دنیا میں قائم کرنا ہے۔اگر لوگ سیدھی طرح سے نہیں مانیں گے تو وہ ڈنڈے سے منوائے گا۔پس تم کوشش کرو کہ تم میں عدل قائم ہو ، انصاف ہو، روزے کی پابندی ہو ، نماز کو سنوار کر ادا کرو۔اگر تم میں سے کسی کے پاس کوئی معاملہ آئے تو چاہے وہ معاملہ اس کے باپ کا ہو ، ماں کا ہو، بیٹے کا ہو یا بھائی کا ہو تم عدل اور انصاف سے منہ نہ موڑو۔اس کے علاوہ بعض اور بھی ہے مسائل ہیں جن کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔مثلاً دنیا امن چاہتی ہے وہ تمہاری خدمت کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔دنیا پر بتا ہیاں آتی ہیں، مصائب آتے ہیں، بلائیں آتی ہیں لیکن تم لوگ اپنے مخصوص مسائل میں ہی پڑے رہتے ہو۔دوسرے لوگ تباہ ہور ہے ہوتے ہیں اور تم احمدیت کی صداقت کے متعلق اشتہا رلکھ رہے ہوتے ہو۔اس سے لوگوں پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔