خطبات محمود (جلد 34) — Page 74
1953ء 74 خطبات محمود یہ ضرور سکھاتے ہیں کہ اگر کوئی تم سے پوچھے کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو تم کہو خدا نے ۔ لیکن یہی سوال مکہ کے بڑے سے بڑے آدمی سے بھی کیا جاتا تو وہ حیرت میں پڑ جاتا کہ میں اس کا کیا کا جواب دوں کہ مجھے لات نے پیدا کیا ہے یا منات نے پیدا کیا ہے یا غزی نے پیدا کیا ہے یاؤ ڈ نے پیدا کیا ہے یا ئبل نے پیدا کیا ہے۔ آخر میں کیا کہوں کہ مجھے کس نے پیدا کیا ہے۔ لیکن ایک مسلمان بچہ کے لیے یہ بالکل معمولی بات ہے۔ ۔ اسی طرح قضاء وقدر کا مسئلہ ہے۔ اس کے تفصیلی مسائل اور چیز ہیں ۔ لیکن ایک مسلمان بچہ کے لیے تقدیر کا سوال بالکل معمولی ہے اور وہ جانتا ہے کہ جو کچھ کرتا ہے خدا تعالیٰ کرتا ہے۔ پس جہاں تک ایمان کا تعلق ہے یقیناً ہمارا بچہ اُس سے زیادہ جانتا ہے جتنا ابو جہل جانتا تھا۔ کیونکہ ابو جہل یہ بحث کرتا تھا کہ بتاؤ تقدیر کیا ہے؟ اور ہمارا بچہ چاہے جانے یا نہ جانے کہ تقدیر کیا ہوتی ہے بڑی دلیری سے کہتا ہے کہ وہی ہوتا ہے جو خدا کی مرضی ہوتی ہے۔ پس تقدیر پر اس کا ایمان ہوتا ہے۔ چاہے تفصیلات سے وہ نا واقف ہو۔ لیکن ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کو تو تقدیر کا لفظ بھی عجیب لگتا تھا۔ وہ تو یہی سمجھتے تھے کہ سارے کام ہمارے بُت کرتے ہیں یا دیوی دیوتا اور جن بھوت اور پریت کام کرتے ہیں ۔ وہ سمجھتے تھے کہ قرعہ ڈال کر بکرا کسی دیوی کے نام پر چڑھا دیا تو سب کام ہو گئے ۔ لیکن ہمارا بچہ کہتا ہے کہ سب کام خدا کرتا ہے ۔ وہ اپنی ماں کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے اماں ! مجھے فلاں چیز لے دو ۔ تو وہ کہتی ہے بیٹا ! اللہ دے گا تو لے دوں گی اور اس جواب سے اس کی تسلی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اس کے نزدیک تقدیر ایک یقینی چیز ہے۔ لیکن جب قرآن کریم نازل ہوا اُس وقت یہ ایک بڑا پیچیدہ مسئلہ تھا۔ اور لوگ حیران ہوتے تھے کہ قرآن نے یہ کیا بات کہہ دی ہے۔ اسی طرح تو حید کو لے لو۔ توحید کے مسئلہ پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ لیکن جب ابتدا میں یہ صلى الله سلام۔ تعلیم نازل ہوئی تو مکہ کے لوگ حیران ہوتے تھے کہ یہ توحید کیا چیز ہے۔ قرآن کریم میں ان کے خیالات کا عجیب نقشہ کھینچا گیا ہے۔ فرماتا ہے کافر کہتے تھے یہ محمد رسول اللہ ﷺ بھی عجیب انسان ہیں کہ انہوں نے سب معبودوں کو کوٹ کاٹ کر ایک بنا دیا ہے۔ گویا ان کے نزدیک لات اور منات اور عزی وغیرہ کا قیمہ بنا کر ایک خدا بنا دیا گیا تھا ۔ ان کے ذہن میں یہ آہی نہیں سکتا تھا کہ لات اور منات اور عزمی معبود ہیں ہی نہیں ۔ وہ ایک کے یہ معنی سمجھتے تھے کہ ان سب کو ملا کر ایک بنا دیا گیا ہے ۔