خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 73

$1953 73 خطبات محمود ہے اور ان کی تیاری میں اور ترتیب ہوتی ہے۔یہی طریق دنیا کے ہر کام میں چلتا ہے۔حکومتیں فوجیں تیار کرتی ہیں۔ملک کی تنظیم کرتی ہیں۔لوگوں کو تعلیم دلاتی ہیں۔ان کو مختلف فنون سکھاتی ہیں۔تو بعض لوگ جنہوں نے پیچھے کام کرنا ہوتا ہے۔اُن کی تیاری پہلے شروع کر دیتی ہیں اور بعض جنہوں نے پہلے کام کرنا ہوتا ہے اُن کی تیاری بعد میں ہوتی ہے۔مثلاً کسی کام کی ٹریننگ چھ ماہ میں مکمل ہو جاتی ہے اور کسی کام کی ٹریننگ میں چار سال صرف ہوتے ہیں۔اب خواہ ایک ہی ہے وقت میں کام شروع ہونے والے ہوں تب بھی چار سال والے کی ٹریننگ پہلے رکھی جائے گی اور چھ ماہ والے کی بعد میں۔یا مثلاً عمارتیں اور پل بنانے میں دیر لگتی ہے۔ان کو پہلے بنایا جائے گا اور ریل کی سٹرکیں جو جلدی جلدی تیار کر لی جاتی ہیں ان کو بعد میں رکھا جائے گا۔فوجیں بعض دفعہ دس دس ، ہمیں ہیں میل لمبی لائن ایک دن میں بچھا دیتی ہیں۔لیکن پل بنانے پر بڑا وقت صرف ہوتا ہے ہے۔اس لیے پلوں کا انتظام اور رنگ میں ہوگا اور ریلیوں کا انتظام اور رنگ میں۔یہی قرآن کریم کی ترتیب کا حال ہے۔قرآن کریم میں جو مضامین اس وقت کے لحاظ سے ضروری تھے۔جب وہ نازل ہو رہا تھا۔اُن کو خدا تعالیٰ نے پہلے رکھا کیونکہ اُس وقت قرآن کریم ابھی اپنی مکمل صورت میں اُن کے سامنے نہیں تھا۔انہیں کچھ معلوم نہیں تھا کہ قرآن کیا ہوتا ہے۔اسلام کیا ہوتا ہے۔رسول کیا ہوتا ہے۔وحی کیا ہوتی ہے۔الہام کیا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ سے تعلق کیا ہے ہوتا ہے۔بلکہ انہیں یہ بھی پتا نہ تھا کہ خدا کیا ہوتا ہے۔اس لیے اُس وقت پہلے ایسے مسائل بیان کئے گئے جو بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔مگر جب وہ مسائل زیر بحث آگئے اور پندرہ بیس سال تک وہ لوگ قرآن کریم کی آیات اور اس کی تعلیم سنتے رہے تو اس کے بعد ان کی جو اولاد ہوئی۔اُس نے اپنے ہی ماں باپ سے یہ باتیں سنی شروع کر دیں۔اور بچپن سے ہی اُن کے کان میں یہ ڈالا جانے لگا کہ خدا کیا ہوتا ہے، رسول کیا ہوتا ہے، الہام کیا ہوتا ہے۔اسلام ہم سے کیا چاہتا ہے۔محمد رسول اللہ ﷺ خدا تعالیٰ نے کیوں مبعوث فرمایا۔پس جب وہ بڑے ہوئے تو ان کی ذہنیت اور قسم کی تھی اور ان کے کے ماں باپ کی ذہنیت اور قسم کی تھی۔قرآن کریم جب نازل ہوا تو اُس وقت قرآن کریم کی بہت سی باتیں لوگوں کے لیے بالکل نئی تھیں۔لیکن آئندہ اولاد کے لیے وہ باتیں پرانی ہو چکی تھیں۔مثلاً ایک مسلمان گھر میں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو جاہل سے جاہل ماں باپ بھی اپنے بچہ کو