خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 367

$1953 367 خطبات محمود لیکن مخالفت کی روح وہاں بھی موجود ہے۔یہ تو دنیوی نظارے ہیں۔دین کو دیکھو تو یہ نظارے اتنی کثرت سے اتنے نمایاں نظر آتے ہیں جس کی کوئی حد نہیں۔حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر اب تک جو انتہائی مشکلات تھیں وہ انبیاء کی جماعتوں کو پیش کی آئیں لیکن وہ پھر بھی محفوظ نکل آئیں۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ سمندر کی ایک لہر اٹھتی ہے اور وہ کشتی ہے پر گر جاتی ہے۔پہلے خیال گزرتا ہے کہ وہ ہر کشتی کو ساتھ بہا کر لے گئی لیکن جب لہر گزر جاتی ہے تو وہ کشتی دوڑتی ہوئی سمندر میں نظر آتی ہے۔پس الٹی تدبیریں دنیا میں ہمیشہ سے چل رہی ہیں اور ی چلتی رہیں گی۔بیوقوف ہے وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ دنیا کی تدبیروں سے ہورہا ہے۔ان میں خدا تعالیٰ کا ہاتھ موجود نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اُس کا ہاتھ ہر جگہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔وہ کسی چیز کوکسی زمانہ میں آزاد نہیں چھوڑے گا۔اگر وہ آزاد چھوڑ دے تو اس پر ایمان لا نا مشکل ہو جائے۔دوسرا سبق اِس واقعہ سے ہمیں یہ ملتا ہے کہ اس قسم کے حادثات کے لیے پہلے سے ہر جماعت اور ہر محلہ میں انتظامات ہونے چاہیں۔یورپ کے لوگوں کو ہم بُرا سمجھتے ہیں لیکن ان میں بعض اس قسم کی خوبیاں ہیں جو بہت نمایاں ہیں۔مثلاً ریڈ کر اس یا اسی قسم کی دوسری سوسائٹیاں ہیں جو ایسے حادثات پر فوراً پہنچ جاتی ہیں، تکلیف زدوں کو امداد پہنچاتی ہیں اور ان تکلیفوں کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔اس طرح ملک کو بہت بڑا فائدہ پہنچ جاتا ہے۔حادثات کسی کو بتا کر نہیں آتے۔ان مسافروں کو ہی لے لو جب وہ گھر سے چلے تھے انہیں یہ پتا نہیں تھا کہ آج انہیں ایسا حادثہ پیش آئے گا۔پھر جب ٹکر ہوئی اس سے پہلے ریل والوں کو بھی پتا نہیں تھا کہ اس قسم کا حادثہ پیش آنے والا ہے۔نہ کا روالے اپنے ساتھ ڈاکٹر لے کر چلے تھے ، اور نہ ریل والے اپنے ساتھ ڈاکٹر لائے تھے ، نہ کار والوں کے پاس دوائیاں تھیں اور نہ ریل والوں کے پاس دوائیاں تھیں۔اگر ہمارے ملک میں بھی اس قسم کے انتظامات ہوتے جس قسم کے انتظامات یورپ میں ہوتے ہیں۔تو ارد گرد کے دیہات والے فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ جاتے اور تکلیف زدوں کو امداد پہنچاتے۔ہمارے ملک میں ان کاموں سے غفلت برتی جاتی ہے۔جب یہ حادثہ ہوا ، ریل والوں نے اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے لائل پور اپنے افسر کو تار دی۔اُس افسر کو خدا تعالیٰ نے سمجھ دی تو اُس نے ہمیں تار دے دی کہ میں اِس وقت اور کوئی انتظام