خطبات محمود (جلد 34) — Page 366
$1953 366 خطبات محمود فوج میں جانے کے معنے ہی یہ ہیں کہ میں مارا جاؤں۔اُس کی بیوی خاموش ہو گئی ایک دن وہ چکی لی پیس رہی تھی اُس نے دیکھا کہ جو دانے اس نے چکی میں ڈالے ہیں اُن میں سے بعض سالم باہر نکل آئے ہیں۔اس پر اُس نے اپنے خاوند سے کہا دیکھو ! جس کو خدا تعالیٰ رکھنا چاہتا ہے وہ چکی کے پاٹ سے بھی سلامت نکل آتا ہے۔پھر تم کیوں یہ سمجھتے ہو کہ اگر تم فوج میں جاؤ گے تو مر جاؤ گے جو لوگ فوج میں جاتے ہیں وہ سارے کے سارے مر نہیں جاتے۔وہ شخص بزدل تھا اُس نے کہا تو مینوں دلیاں ہویاں وچ ہی سمجھ لے " یعنی بے شک چکی کے پاٹ سے بھی بعض دانے سالم نکل آئے ہیں۔لیکن تو مجھے سالم دانوں میں سے کیوں بجھتی ہے تو مجھے پسے ہوئے دانوں میں سے سمجھ۔ہے تو یہ بُزدلی کے اظہار کے لیے ایک لطیفہ، لیکن اس کا ایک حصہ اپنے اندر یہ سبق رکھتا ہے ہے کہ بڑے سے بڑے خطرناک حالات سے بھی خدا تعالیٰ انسان کو زندہ باہر نکال لاتا ہے۔حقیقتا یہی نشان ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر اس وقت تک چل رہا ہے۔اگر یہ نشان نہ ہوتا تو ی صداقت باقی نہ رہتی۔جب بھی صداقت دنیا میں آئی ہے لوگوں نے اُسے مٹانے اور مارنے کی کوشش کی ہے۔لیکن انہی میں سے ایک حصہ ایسا نکل آیا جس نے صداقت کو قبول کیا۔بڑے بڑے عظیم الشان جابر بادشاہ دنیا میں گزرے ہیں۔انہوں نے اپنے مخالف عصر کو کچلنے کی پوری کوشش کی لیکن وہ مرگئے اور وہ عنصر جسے انہوں نے مٹانے کی کوشش کی وہ پھر بھی کسی نہ کسی صورت میں باقی تھا۔جب ہلاکو خان نے تباہی مچائی تو کہتے ہیں اُس وقت اتنے لوگ قتل ہوئے تھے کہ پہاڑیوں کی مانند لاشوں کے ڈھیر لگ جاتے تھے۔لیکن مخالف عصر پھر بھی موجود تھا۔بہر حال کہیں نہ کہیں مخالفت کا بیج باقی رہ جاتا ہے اور وہ کسی وقت باہر نکل آتا ہے یورپ میں تین بڑے تغیرات ہوئے ہیں۔ایک نپولین کے وقت، دوسرا ہٹلر کے وقت اور تیسرا روس کے ماتحت۔ان تینوں کی زمانوں میں ان کے مخالف عصر باقی رہے ہیں۔نپولین نے اپنے مخالف عصر کو کچلنے کی بڑی کوشش کی کی لیکن وہ اس کے بعد بھی موجود تھا۔ہٹلر کی سب سے بڑی مخالفت یہودیوں سے تھی لیکن ہٹلر کے پیدا ہونے اور برسراقتدار آنے سے پہلے جو یہودیوں کی طاقت تھی اب ان کی طاقت اُس سے کہیں زیادہ ہے۔وہ مارے گئے ، تباہ ہوئے لیکن باوجود تمام سختیوں کے وہ پھر بھی دنیا میں موجود ہیں۔پھر روس جن عناصر کو کچلنا چاہتا ہے وہ پھر بھی باہر نکل آتے ہیں۔روس میں بے شک ڈکٹیٹرانہ حکومت ہے۔