خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 368

خطبات محمود کام 368 $1953 نہیں کر سکتا۔صدرانجمن احمد یہ اس کا انتظام کرے۔یہ تار ناظر صاحب اعلیٰ کو پہنچی تو انہوں نے یہ خدام الاحمدیہ کے سپر د کر دیا۔اور مجھے اطلاع دیدی۔میں نے پرائیویٹ سیکرٹری کو بلا کر ہدایت دی کہ اس کام میں کوئی سستی نہیں ہونی چاہیے۔مجھے دس دس منٹ کے بعد رپورٹ کرتے جائیں کہ اب تک کیا ہوا ہے۔میں نے یہ ہدایت بھی دی کہ سارے قافلہ کا انتظام تو فوراً نہیں کیا جاسکتا۔جو سواری تیار ہوا سے جائے وقوعہ پر بھیج دو۔مجھے یہ پتا نہیں لگا کہ خدام الاحمدیہ نے کی ریڈ کر اس کے طور پر کوئی انتظام کیا ہوا ہے یا نہیں۔لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ خدام کے اندر چونکہ کام کرنے کی سپرٹ اور رُوح پائی جاتی ہے انہوں نے جلدی انتظام کر لیا۔لیکن ہونا یہ چاہیے کہ پہلے سے اس قسم کا انتظام موجود ہو۔جس سے پتا لگے کہ ایسے مواقع پر فلاں فلاں شخص کی ڈیوٹی کی ہوگی کہ وہ اطلاع ملتے ہی فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ جائے۔خدام نے ہوشیاری کا نمونہ دکھایا کہ جب انہیں اطلاع ملی ایک لاری سڑک سے گزر رہی تھی انہوں نے چار پانچ آدمیوں کو اس پر بھیج دیا اور پھر بعض لوگوں کو سائیکلوں پر روانہ کیا۔پھر موٹروں میں جانے شروع ہوئے۔لیکن مجھے یہ سُن کر افسوس ہوا کہ پہلے ڈاکٹری وفد نے اپنے کام میں غفلت سے کام لیا۔وہ میرے پاس آئے اور کہا کہ ہم وہاں گئے تھے اور اب واپس آگئے ہیں۔سب کچھ ٹھیک ہے۔تمام آدمیوں کو ریل والے ریل میں بٹھا کر لے گئے ہیں۔حالانکہ انہیں یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ ریل والے جن لوگوں کو ساتھ لے گئے ہیں وہ صرف اسٹیشن تک انہیں لے جائیں گے۔کیونکہ گاڑی صرف اسٹیشن تک جاتی ہے۔شہر کی گلیوں میں نہیں جاتی۔انہیں اسٹیشن سے ہسپتال تک کون لے جائے گا۔پس ہمارے ڈاکٹری وفد کو غور کرنا چاہیے تھا کہ اسٹیشن پہنچ کر شاید ان لوگوں کو ہسپتال تک لے جانے کی ضرورت ہو یا شاید ان میں سے کسی کو سرگودھا یا لائل پور پہنچانا پڑے۔اور پھر نہایت خطر ناک غلطی یہ کی کہ دوائیاں اپنے ساتھ ہی واپس لے آئے۔آخری وفد میں جو ڈاکٹر تھا اُس نے لالیاں (جو حادثہ کا مقام تھا ) جا کر دیکھا کہ ایک دو آدمیوں میں تو طاقت تھی۔وہ ٹانگوں پر سوار ہو کر اپنے گھر چلے گئے۔لیکن باقی لوگ اسٹیشن پر ہی پڑے تھے۔اُس نے انہیں ہسپتال پہنچایا۔یہ ہسپتال بالکل بریکا رتھا۔ایک مریض کے متعلق یہ خیال تھا کہ شاید اُسے ٹینس (Tetanus) ہو جائے۔اُس کی ایک ٹانگ کا سارا چھڑا اُتر گیا تھا۔لالیاں چھوٹا سا قصبہ ہے وہاں اس کا کوئی علاج نہ تھا۔ہسپتال کا ڈاکٹر سمجھتا تھا کہ میں