خطبات محمود (جلد 34) — Page 192
خطبات محمود 1953ء 192 25 اپنے نمونہ اور عمل کو ایسا پاکیزہ بناؤ کہ تم اپنی ہ بناؤ کہ تم اپنی ذات میں مجسم تبلیغ بن جاؤ۔ (فرمودہ 24 جولائی 1953ء بمقام احمد آباد سندھ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ احمد آباد کی زمین ہمیشہ ہی ایک الہی معجزہ کی یاد دلاتی ہے۔ 1915ء سے 1917ء میں کسی عرصہ کی بات ہے کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ پر کھڑا ہوں ۔ نہر کا کنارہ ہے، ہے کہ نے کا کچھ اور دوست بھی میرے ساتھ کھڑے ہیں کہ اتنے میں زور کی آواز آئی جیسے پانی گرنے یا آبشار کا شور ہوتا ہے ۔ میں نے حیران ہو کر اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کیا کہ یہ کیا بات ہے ۔ اس پر بعض دوستوں نے جو میرے ارد گر د تھے اوپر کی طرف اشارہ کیا ۔ اور مجھے معلوم ہوا کہ نہر کا بند ٹوٹ گیا ہے اور پانی تمام علاقہ میں پھیل گیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ پانی کا بہاؤ ایسا تیز ہے جیسے کسی بڑے بھاری دریا کا بند ٹوٹ جاتا ہے۔ پانی سرعت کے ساتھ پھیلتا چلا جاتا ہے اور ارد گرد کے گاؤں اور قصبات ا بات اس کی زد میں آتے چلے جاتے ہیں ۔ چنانچہ مجھے اُس وقت مجھے اُس وقت کئی گاؤں اور قصبات نظر آتے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ جب پانی ان کے پاس پہنچتا ہے تو وہ ان کے نیچے کی زمین کو اس طرح