خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 193

$1953 193 خطبات محمود کاٹ کر پھینک دیتا ہے جس طرح زمیندار اپنے گھر پے سے گھاس کی جڑیں اکھیڑ دیتا ہے۔پانی آتا ہے اور آن کی آن میں انہیں اچھال کر پرے پھینک دیتا ہے۔چنانچہ بیسیوں گاؤں اور قصبات مجھے دکھائی دیئے جو پانی کے اس بہاؤ کی وجہ سے برباد ہو گئے۔لیکن پہلے تو وہ پانی پرے پرے جا رہا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ جس جگہ پر ہم کھڑے ہیں وہ محفوظ ہے۔لیکن اتنے میں جو دوست میرے ساتھ تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ پانی کا رُخ اب اس طرف پھر گیا ہے اور وہ چکر کاٹ کر دائیں طرف سے بائیں طرف کو آنے لگا ہے۔چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے پیشتر اس کے کہ ہم بھاگ کر اپنے بچاؤ کی تدبیر کرتے سیلاب نے ہمیں آلیا اور جس جگہ پر ہم کھڑے تھے اُس بند کے نیچے کی زمین اُس نے کاٹ دی اور ہمیں بھی پانی میں پھینک دیا۔جب میں پانی میں گرا تو میں نے تیرنا شروع کیا۔مگر اس وقت پانی اتنا گہرا ہو گیا کہ یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ یہ کس نہر کا پانی ہے۔بلکہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے گہرا دریا یا سمندر ہے۔میں پیر لگانے کی کوشش کرتا لیکن زمین مجھے ملتی نہیں تھی۔میں نے بعض دفعہ غوطہ لگا کر زمین کی تہہ معلوم کرنے کی کوشش کی مگر پھر بھی میں ناکام رہا اور میں کی ނ اسی طرح بہتا چلا گیا یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ اب فیروز پور آ گیا ہے۔پھر میں فیروز پور آگے کی طرف بہتا چلا گیا۔مگر میرا پاؤں کہیں لگا نہیں۔اُس وقت میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کرنی شروع کی اور یہ فقرہ میری زبان پر جاری ہو ا جو پہلے بھی کئی دفعہ شائع ہو چکا ہے کہ "یا اللہ سندھ میں تو پیر لگ جائیں۔یا اللہ سندھ میں تو پیر لگ جائیں۔" یہ دعا میں کرتا چلا گیا یہاں تک کہ میں نے محسوس کیا کہ اب پانی کم ہو گیا ہے اور میں نے اپنے پاؤں زمین پر لگانے کی کوشش کی تو میرے پاؤں لگ گئے اور میں پانی سے باہر نکل آیا۔یہ 1915ء سے 1917 ء تک کے کسی سال کی بات ہے۔جب مجھے خلیفہ ہوئے ابھی کی ایک سال یا دو سال یا تین سال ہی ہوئے تھے۔اُس وقت حالات ایسے تھے کہ ہماری جماعت کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں تھی اور نہ ہی دنیا میں وہ معروف تھی۔ہمارا کوئی تبلیغی مشن بھی سوائے انگلستان کے اُس وقت تک قائم نہیں ہوا تھا۔جماعت کی تبلیغی جد و جہد صرف افراد تک محدود تھی۔یعنی اس غرض کے لیے مبلغ مقرر نہیں تھے بلکہ احمدی افراد ہی تبلیغ کرتے اور لوگ ان کی وجہ سے احمدیت میں داخل ہو جاتے۔غرض اس وقت تک کوئی ایسے حالات نہ تھے جن سے یہ ظاہر ہوتا کہ