خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 188

1953ء 188 خطبات محمود دیانتداری کے ساتھ فرض ہے کہ وہ حنفی بن جائے ۔ یا اگر کوئی حنفی یہ سمجھتا ہے کہ اہل حدیث جو کچھ کہتے ہیں وہ درست ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ حنفیت کو چھوڑ دے اور اہلِ حدیث بن جائے ۔ یا اگر کوئی اہلِ حدیث یہ سمجھتا ہے کہ حنفی سچائی پر ہیں تو اُس کا فرض ہے کہ وہ فرقہ اہلحدیث کو چھوڑ دے اور حنفیت اختیار کرلے۔ لیکن جو شخص اس خیال سے کسی مذہب کو چھوڑتا ہے کہ اگر میں اس پر قائم رہا تو لوگ مجھے مار ڈالیں گے تو وہ جس طرح ایک جگہ بے ایمان رہا اُسی طرح دوسری جگہ بھی بے ایمان رہے گا ۔ اُس کا نہ یہاں اعتبار کیا جا سکتا ہے اور نہ وہاں اعتبار کیا جا سکتا ہے اور در حقیقت ایسا وہی کرتا ہے جس نے مذہب کو ساری چیزوں پر مقدم نہیں کیا ہوتا ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس بارہ میں مومنوں کو ایک اصولی ہدایت دیتا ہے ۔ اور فرماتا ہے ۔ يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا 1 یعنی یہ مقام کہ انسان ہر قسم کے تزلزل سے بچ جائے اور اسے روحانیت اور مذہب پر ثبات حاصل ہو جائے حلال کھانے کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے۔ اگر تم حلال کھاؤ گے تو اس کے نتیجہ میں لازمی طور پر تمہیں عملِ صالح کی توفیق ملے گی ۔ جس طرح آج کل کمیونزم نے یہ بات نکال لی ہے کہ سارا دھندا پیٹ کا ہے ۔ چنانچہ جہاں بھی کمیونسٹوں سے بات کرنے کا کسی کو موقع ملے وہ یہی کہتے ہیں کہ اور مسائل کو جانے دیجئے سارا جھگڑا ہی پیٹ کا ہے۔ اسی طرح قرآن کریم بھی یہی کہتا ہے کہ پیٹ ہی اصل چیز ہے ۔ مگر اُنہوں نے تو یہ کہا ہے کہ جس نے پیٹ کا مسئلہ حل کر لیا وہ کامیاب ہو گیا اور قرآن یہ کہتا ہے کہ جس نے اپنے پیٹ کو کو ہر قسم قسم کے حرام سے بچالیا وہ کامیاب ہو گیا ، جس نے حلال اور حرام میں : ہمیشہ امتیاز کیا اور جس نے طیبات کا استعمال ہمیشہ اپنا معمول رکھا وہی ہے جسے عملِ صالح کی توفیق ملتی ہے۔ یعنی نماز کی بھی اُسے ہی توفیق ملتی ہے جو حلال کھاتا ہے، اور روزہ بھی اُسی کو نصیب ہوتا ہے جو حلال کھاتا ہے ، اور حج بھی اُسی کو نصیب ہوتا ہے جو حلال کھاتا ہے اور زکوۃ کی بھی اُسی کو توفیق ملتی ہے جو حلال کھاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک بے جوڑ سی بات معلوم ہوتی ہے اور انسان حیران ہوتا ہے کہ حلال کی روئی کھانے سے نماز کی کس طرح توفیق مل سکتی ہے ۔ مگر قرآن ہمیشہ اصولی باتیں پیش کرتا ہے جن پر اگر مضبوطی کے ساتھ عمل کیا جائے تو ان کے نتائج سے انسان محروم نہیں رہ سکتا ۔ یہ اصولی ہدایت