خطبات محمود (جلد 34) — Page 187
$1953 187 خطبات محمود تعلیم پر قسم قسم کے اعتراضات نظر آنے لگتے ہیں۔اور جب جذبات کا سوال آتا ہے تو ان کی ساری محبت اپنے بیوی بچوں اور روپیہ کی طرف چلی جاتی ہے خدا اور اُس کے رسول کی طرف نہیں جاتی۔گویا جس طرح آج کل کئی کئی کپڑوں کے جوڑے اور کئی کئی بوٹ خریدنے کا رواج ہے اسی طرح اُن کی خلوت کا مذہب اور ہوتا ہے اور ان کی جلوت کا مذہب اور ہوتا ہے۔ان کے ذکر کا مذہب اور ہوتا ہے اور ان کے فکر کا مذہب اور ہوتا ہے۔ان کے جذبات کا مذہب اور ہوتا ہے اور ان کے خیالات کا مذہب اور ہوتا ہے۔لیکن حقیقی مذہب ان ساری چیزوں پر حاوی ہوتا ہے۔اور جب انسان اسے قبول کرتا ہے تو اس کے خیالات بھی اس سے متاثر ہو جاتے ہیں، اس کے جذبات بھی اس کے متاثر ہو جاتے ہیں ، اس کے افکار بھی اس سے متاثر ہو جاتے ہیں، اور اس کے اذکار بھی اس سے متاثر ہو جاتے ہیں۔اس کی خلوت بھی اس کے تابع ہوتی ہے اور اس کی جلوت بھی اس کے تابع ہوتی ہے ہے۔اور وہ جہاں بھی ہو اور جس حالت میں بھی ہو اس عقیدہ اور مذہب کے تابع رہتا ہے اور کبھی اسے ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا خواہ اُسے مار دیا جائے۔گزشتہ شورش میں بعض جگہ ہماری جماعت کی مستورات نے ایسی بہادری دکھائی کہ جب شرارتی عنصر نے انہیں پکڑا اور احمدیت سے منحرف کرنا چاہا تو انہوں نے کہا کہ تم ہمیں ماردو ہمیں اس کی پروا نہیں۔بلکہ اگر تم ہمارے جسم کے ستر ستر ٹکڑے کر دوتب بھی ہمیں خوشی ہے کیونکہ ہمارے ستر ٹکڑے ہی خدا تعالیٰ کی رحمت کے مستحق ہوں گے۔لیکن اس کے مقابلہ میں بعض ایسے مرد بھی۔تھے جنہوں نے بزدلی دکھائی اور کمزوری ایمان کا اظہار کیا۔اگر وہ احمدیت کو جھوٹا سمجھ کر چھوڑ جاتے تو ہمارے لئے اس میں کوئی رنج کی بات نہیں تھی۔ہر شخص اپنی نجات کا آپ ذمہ دار ہے۔اگر ایک شخص دیانتداری سے سمجھتا ہے کہ شیعیت میں میری نجات ہے احمدیت میں نہیں تو وہ ہر وقت کی آزاد ہے کہ احمدیت کو چھوڑ دے اور شیعیت کو اختیار کر لے۔اس سے نہ کوئی جماعت اُسے روک سکتی ہے نہ کوئی قوم اُسے روک سکتی ہے اور نہ کوئی حکومت اُسے روک سکتی ہے اسی طرح اگر کوئی ہے شخص سمجھتا ہے کہ خارجیت میں میری نجات ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ خارجیت کو قبول کر لے اور احمدیت کو ترک کر دے۔یا اگر ایک شخص یہ سمجھتا ہے کہ منفی جو کچھ کہتے ہیں وہ درست ہے تو اُس کا