خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 176

$1953 176 خطبات محمود کہ کوئی شخص پانی لائے تو دو چارسو آدمیوں میں سے بعض دفعہ صرف ایک شخص اٹھے گا اور بعض دفعہ ایک بھی نہیں اٹھے گا۔اور ہر شخص یہ خیال کر لے گا کہ یہ بات دوسروں سے کہی گئی ہے مجھے نہیں کہی گئی۔گویا وہ سب اپنے آپ کو چودھری سمجھنے لگ جائیں گے اور صرف ایک شخص ایسا ہو گا جو اپنے آپ کو اس حکم کا مخاطب سمجھے گا۔اور بعض دفعہ ایک شخص بھی ایسا نہیں ہوگا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر خطیب ایسا فقرہ بولتا ہے تو اُس کا یہ منشاء نہیں ہوتا کہ ساری مجلس اٹھ کر چلی جائے اور وہ اکیلا مسجد میں رہے۔اور نہ اس فقرہ کو کلی طور پر صحیح قرار دیا جاسکتا ہے ہے۔حقیقتاً اسے کسی ایک شخص کو مخاطب کرنا چاہیے اور بجائے مبہم فقرہ استعمال کرنے کے اُسے کسی معتین شخص کو کہنا چاہیے کہ وہ جائے اور پانی لائے۔لیکن اگر وہ غلطی سے ایسا نہیں کرتا تو پھر اس فقرہ ہر شخص مخاطب ہوگا اور ہر شخص کا فرض ہوگا کہ وہ اٹھے اور پانی لائے۔ہاں اگر انہیں تسلی ہو جائے کہ کوئی ایک شخص پانی لانے کے لیے چلا گیا ہے تو پھر باقی لوگ بیٹھ سکتے ہیں۔لیکن جب تک یہ اطمینان نہ ہو ہر شخص اس حکم کا مخاطب ہوگا اور ہر شخص کا فرض ہوگا کہ وہ اس کے مطابق عمل کرے۔غرض چودھریت والا احساس کہ ہم مخاطب نہیں دوسرے لوگ مخاطب ہیں۔ہمیشہ انسان کی کو نیکی سے محروم کر دیتا ہے۔رسول کریم ﷺ ایک دن مسجد میں تقریر فرما رہے تھے کہ بعض لوگ آئے اور کناروں پر کھڑے ہو کر تقریر سننے لگ گئے۔ان کے بعد جو اور لوگ آئے وہ اُن کھڑے ہونے والوں کی وجہ سے رسول کریم ﷺ کی آواز پوری طرح سن نہیں سکتے تھے۔جب رسول کریم ہے نے دیکھا کہ بعض لوگ بعض دوسروں کو تقریر سننے سے محروم کر رہے ہیں تو آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ۔جب آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ تو اس سے مراد وہی لوگ تھے جو آپ کے سامنے کھڑے تھے۔مگر چونکہ آپ نے بلند آواز سے یہ بات کہی آپ کی آواز باہر بھی پہنچ گئی۔حضرت عبداللہ بن مسعود اُس وقت تقریر سننے کے لیے آ رہے تھے اور ابھی آپ مسجد کے باہر ہی تھے کہ یہ آواز ان کے کانوں میں پہنچ گئی۔جب انہوں نے سنا کہ رسول کریم ﷺ یہ فرما رہے ہیں کہ بیٹھ جاؤ تو وہ اُسی جگہ بیٹھے گئے اور بچوں کی طرح گھسٹتے ہوئے انہوں نے مسجد کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔کوئی اور شخص پیچھے سے آیا تو اُس نے کہا عبداللہ بن مسعودؓ ! تم یہ کیا بچوں والی حرکت کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا ابھی رسول کریم ﷺ کی آواز میرے کانوں میں آئی تھی کہ بیٹھ جاؤ اس لئے میں یہیں بیٹھ گیا۔اُس نے کہا