خطبات محمود (جلد 34) — Page 175
خطبات محمود۔175 $1953 حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی عادت تھی کہ آپ اپنے اوقات کا اکثر حصہ باہر ہی گزارتے تھے۔یہ میری عادت نہیں اور نہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسا کیا کرتے تھے۔بہر حال چونکہ آپ زیادہ تر باہر ہی تشریف رکھتے تھے اس لیے جب آپ کی طبیعت علیل ہوتی تو چونکہ بیمار آدمی کی بعض دفعہ دوسروں کی موجودگی کی وجہ سے تکلیف محسوس کرتا ہے اس لیے جب آپ بیٹھے بیٹھے تھک کے جاتے تو فرماتے کہ اب لوگ چلے جائیں۔اگر اُس وقت ہیں بائیس آدمی آپ کے پاس ہوتے تو ی یہ بات سُن کر بارہ تیرہ آدمی چلے جاتے اور آٹھ دس آدمی بیٹھے رہتے۔آپ پانچ سات منٹ انتظار فرماتے اور پھر دوبارہ فرماتے کہ اب لوگ چلے جائیں مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔اس عرصہ میں دو چار اور نئے آدمی آپ کی مجلس میں آکر بیٹھ جاتے تھے۔آپ کی یہ بات سُن کر چھ سات اور چلے جاتے اور چار پانچ پھر بھی بیٹھے رہتے۔اس پر آپ پانچ دس منٹ اور انتظار فرماتے اور پھر فرماتے کہ اب چودھری بھی چلے جائیں۔یعنی میں دو دفعہ ایک بات کہہ چکا ہوں مگر ہر دفعہ کہنے کے بعد کچھ لوگ بیٹھے رہتے ہیں۔جو سمجھتے ہیں کہ یہ حکم ہمارے لیے نہیں ، دوسروں کے لیے ہے۔گویا وہ اپنے آپ کو چودھری سمجھتے ہیں۔اس لیے آپ فرماتے کہ اب چودھری بھی چلے جائیں۔تو کچھ لوگ دنیا میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو چودھری سمجھتے ہیں۔وہ خیال کرتے ہیں کہ تمام احکام دوسروں کے لیے ہیں ان کے لیے نہیں۔جب کہا جائے چلے جاؤ تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اوروں کے لیے حکم ہے ہمارے لیے نہیں۔جب کہا جائے چندے دو تو وہ سمجھتے ہیں یہ دوسروں کو چندہ دینے کا حکم دیا گیا ہے ہمیں چندہ دینے کا حکم نہیں دیا گیا۔جب کہا جائے احمدیت پر جو اعتراضات ہوتے ہیں اُن کے جوابات دو اور لوگوں کے بغض اور کینہ کو دُور کرنے کی کوشش کی کرو تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکم بھی دوسروں کے لیے ہے ہمارے لیے نہیں۔پس اس غفلت اور جمود کی ہے ایک وجہ تو یہ ہے کہ بعض لوگ مغرور ہو جاتے ہیں اور جتنا جتنا پیسہ انہیں ملتا جاتا ہے اُتنا ہی وہ اپنے کی آپ کو خدائی احکام سے آزاد سمجھنے لگ جاتے ہیں۔اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جو حکم بھی د جائے اُس کے متعلق وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دوسروں کے لیے ہے ہمارے لیے نہیں۔اس مسجد میں اس وقت دو اڑھائی سو آدمی موجود ہے۔اگر مجھے پیاس لگے تو معقول بات تو یہ ہوگی کہ میں کسی شخص کو مخاطب کر کے کہوں کہ میرے لیے پانی لاؤ۔لیکن اگر میں کسی کو مخاطب نہیں کرتا اور صرف اتنا کہہ دیتا ہوا