خطبات محمود (جلد 34) — Page 105
1953ء 105 خطبات محمود فلاں موقع پر حُسنِ سلوک کیا تھا۔ میں اُس کے بدلہ میں یہ ستو لایا ہوں ۔ پھر اس سے ترقی کر کے بعض لوگ افسروں کو ڈالیاں 2 پیش کرتے ہیں ۔ ان ڈالیوں کے ساتھ یہ امید کا پہلو بھی ہوتا ہے کہ یہ تو پہلے سلوک کا بدلہ ہے اب میرے ساتھ اور نیک سلوک بھی ہونا چاہیے۔ پھر بعض حکومتیں بھی احسانات کا بدلہ دیتی ہیں تو یہ کر دیتی ہیں کہ کسی کو پانچ مربع زمین دی اور ساتھ ہی کہہ دیا کہ 1700 روپے فی مربع ادا کر دیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رقم مربع کی پوری قیمت نہیں ہوتی لیکن تاہم وہ کچھ رقم کا مطالبہ کر لیتی ہیں ۔ اگر بڑی مار مارتی ہیں تو کہہ دیتی ہیں کہ اس کو تاحیات اتنی رقم بطور پنشن ملے گی۔ اس کی وفات پر اس کے بیٹے کو نصف رقم اور اس کے بیٹے کو اس کی نصف رقم ملے گی ۔ اور آہستہ آہستہ اس پیشن کو ختم کر دیتی ہیں۔ ان نظاروں کو دیکھ کر انسان جب خدا تعالیٰ کے متعلق خیال کرے گا تو یہی کرے گا کہ وہ پوری پنشن دے دیتا ہو گا یا وہ پانچ مربعے زمین دے کر کسی رقم کا مطالبہ نہیں کرتا ہوگا اور کیا دیتا ہوگا ۔ جیسے ملکہ وکٹوریہ کے متعلق بعض دیہاتیوں نے خیال کر لیا کہ وہ بھنا ہوا گوشت کھاتی ہو گی یا یہ کہ گڑ کی بھیلیاں کھاتی ہوگی اور ساتھ ہی ساتھ ٹہلتی بھی جاتی ہوگی ۔ اس طرح خدا تعالیٰ کے متعلق بھی لوگ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ رحیم ہے اس لیے وہ ساری پیشن دے دیتا ہو گا ۔ یا ہماری پچاس یا ساٹھ روپے کی قربانی ہے تو وہ پانچ چھ سو روپیہ دے دیتا ہو گا ۔ اگر گورنمنٹ دس پندرہ سال تک پنشن دیتی ہے تو وہ سو سال تک دیتا ہوگا۔ پس چونکہ لوگ اس قسم کے اندازے لگا سکتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ بات نہیں ۔ یہاں اگر تمہیں نصف تنخواہ پنشن ملتی ہے تو خدا تعالیٰ تمہیں پوری تنخواہ بطور پنشن دے گا۔ بلکہ یہاں تو انعامات بہت محدود ہیں اگر وہ لاکھوں ہیں تب بھی محدود ہیں ۔ لیکن ہمارا یہ حال ہے۔ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَاءُ ون 3 ۔ ہماری جنت میں جنتی جو کچھ چاہیں گے وہ انہیں ملے گا۔ اگر کوئی دس ارب روپیہ چاہے گا تو وہ اُسے ملے گا ، دس کھرب چاہے گا تو وہ اُسے ملے گا ، دس پدم چاہے گا تو وہ اُسے ملے گا۔ ہماری پینشن کا یہ حال نہیں کہ اگر یہاں نصف تنخواہ بطور پنشن ملتی ہے تو ہمارے ہاں پوری تنخواہ بطور پنشن مل جائے گی ۔ بلکہ اگر کوئی شخص گودڑی میں ملبوس ہے۔ اُس کے کپڑے پھٹے پرانے ہیں اور اُسے دنیا میں کوئی حیثیت بھی حاصل نہیں تو اُسے ہمارے ہاں جو کچھ ملے گا سارے امریکہ کی دولت اُس کے مقابلہ میں ایک مکھی کے پر کی حیثیت بھی نہیں رکھتی ۔ بے شک ہم یہاں کہتے ہیں کہ انہیں بہت کچھ ملتا ہے لیکن یہاں جو کچھ ملتا ہے وہ بہر حال محدود ہوتا ہے۔