خطبات محمود (جلد 34) — Page 104
$1953 104 خطبات محمود میں نے جو باتیں بیان کی ہیں شاید تم انہیں مذاق سمجھتے ہوگے۔لیکن یہ واقعات ہیں جن کا کی تاریخ میں بھی ذکر آتا ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ جب ہمایوں شیر شاہ سوری پر حملہ کرنے گیا ہے تو اُس کے ساتھ ایک لاکھ سپاہی تھا۔میلوں میل تک شاہی لشکر پھیلا ہوا تھا۔خیموں میں ایک طرف سے دوسری طرف تک جانا مشکل تھا۔اس لشکر کو دیکھ کر ہمایوں کے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا کہ یہ لشکر اتنا بڑا ہے کہ اسے تباہ کرتے ہوئے تو خدا تعالیٰ کو بھی کچھ دیر ہی لگے۔اُس نے لشکر کی کثیر تعداد دیکھ کر دھوکا کھایا اور یہ فقرہ اس کے منہ سے نکل گیا۔لیکن خدا تعالیٰ اُسے سزا دینا چاہتا تھا۔جس وقت ہمایوں نے یہ بات کہی اُس کی وقت پٹھانوں کی فوج کا ایک جرنیل بھی یہ بات سن رہا تھا۔اُسے یہ بات سن کر غیرت آئی۔وہ قید تھا۔اُس نے مجنونانہ طور پر زور لگایا تو بیڑیاں ٹوٹ گئیں اور آزاد ہو کر بھاگ کھڑا ہوا اور اپنی قوم میں جا کر کہا ہے کہ ہمایوں نے خدا تعالیٰ کی ہتک کی ہے۔قوم میں جوش پیدا ہوا اور ایک لشکر جمع ہو گیا جسے لے کر شیر شاہ نے ہمایوں کی فوج پر حملہ کر دیا اور اسے شکست دی۔اور آخر اس نے بھاگ کر ایران میں پناہ لی۔اس واقعہ سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ یہ خیالی بات نہیں۔دنیا میں اس قسم کی ہزاروں مثالیں ملتی ہیں۔جب کسی شخص کو دنیا میں بڑائی مل گی تو وہ خیال کرنے لگ گیا کہ اب خدا تعالیٰ میں یہ طاقت نہیں کہ مجھے نیچے گرا دے۔ہمایوں بادشاہ تھا لیکن اُس نے خیال کیا کہ اب میرے لشکر کو تباہ کرنے میں خدا تعالیٰ کو بھی کچھ دیر لگے گی۔لوگ خیال کرتے ہیں کہ جب ہم چھوٹے تھے تو خدا ہمیں مٹا سکتا تھا۔اب ہم بڑے ہو گئے ہیں اب خدا ہمیں کس طرح مٹا سکتا ہے۔پس چونکہ الفاظ کے معنی کرنے میں لوگ غلطی کر جاتے ہیں اس لیے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں رحمان اور رحیم کی تشریح کر دی ہے۔مثلاً رحمان کی تشریح کرتے ہوئے خدا تعالیٰ سورج اور چاند کا ذکر کرتا ہے۔وہ مثال دے کر کہتا ہے کہ میں نے تمہارے لئے سورج بنایا، چاند بنایا، زمین بنائی ، آسمان بنائے ، پانی پیدا کیا۔اس لیے تم میری رحمت کا غلط اندازہ نہ لگانا اور یہ نہ سمجھنا کہ صرف چند روپے تم کو دے دیئے ہیں یا انسان دس روپے دے سکتے ہیں تو خدا تعالیٰ پچاس روپے دے سکتا ہوگا۔پھر رحیمیت آجاتی ہے تو وہاں یہ سوال آتا ہے کہ اس دنیا میں جب گورنمنٹ رحیمیت کا بدلہ دیتی ہے تو وہ بہت محدود ہوتا ہے۔ہمارے ایک زمیندار کے ساتھ اگر کوئی افسر نیک سلوک کرتا ہے تو وہ مارچ اپریل میں ایک کھدر کی چادر میں ستو ڈال لیتا ہے اور اُس افسر کی کوٹھی پر جا کر کہتا ہے یہ ستو ہیں ، آپ نے جو مجھ سے