خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 250

$1953 250 خطبات محمود اور ترقی کرنا ہے۔اور یہ مسجد اتنی وسیع نہیں کہ سارے کراچی کے احمدی یہاں نمازیں پڑھ سکیں۔در حقیقت مسجد کراچی ، وہی کہلائے گی جس میں کراچی کے تمام موجودہ اور آئندہ آنے والے احمدی سما سکیں۔پس اس کا کوئی اور نام رکھ لیا جائے جو موجودہ حالات کے لحاظ سے مناسب ہو۔اس کے بعد میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ نماز ، روزہ ، حج ، اور زکوۃ یہ ساری کی ساری عبادات صرف ایک ظاہری شکلیں ہیں جو اپنی ذات میں مقصود نہیں۔ہم مساجد میں جاتے ہیں، اُن کا احترم بھی کرتے ہیں اور مساجد کے سامنے باجا بجانے یا شور و غل مچانے پر گشت وخون بھی ہو جاتے ہیں۔لیکن اگر ہم غور کریں کہ مسجد کیا ہے؟ تو ہمیں معلوم ہوتا ہے؟ محض ایک زمین کا ٹکڑا ہوتا ہے جس کا احاطہ کر لیا جاتا ہے اور پھر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ لوگ یہاں نمازیں پڑھیں گے۔گویا ہمارا اصل مقصد مسجد نہیں ، اصل مقصود نماز باجماعت ادا کرنا ہوتا ہے۔بلکہ حقیقت تو ہے کہ اگر ہم مزید غور کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نماز بھی اپنی ذات میں مقصود نہیں۔بلکہ وہ بھی کسی اور مقصد کے حصول کے لیے پڑھی جاتی ہے۔پس جس غرض کے لیے نماز ادا کی جاتی ہے درحقیقت وہی غرض ہمارا اصل مقصود کہلائے گی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے که اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ 1 یعنی نماز انسان کو نخش اور نا پسندیدہ باتوں سے روکتی ہے اور رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کی نماز یہ ہے کہ تو یہ سمجھے کہ خدا تجھے دیکھ رہا ہے۔اور اعلیٰ درجہ کی نماز یہ ہے کہ تو یہ سمجھے کہ تو اپنی آنکھوں سے خدا کو دیکھ رہا ہے 2ے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف نماز اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں۔نماز کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ عملی زندگی میں وہ انسان کو فحشاء ومنکر سے روکے۔گویا اصل مقصود یہ ہوا کہ انسان فحشاء ومنکر سے رُکے اور روحانی لحاظ سے نماز کی غرض یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے سامنے آجائے اور وہ یہ سمجھے کہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔اب یہ جو رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ تو یہ سمجھے کہ تو خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔اور اگر ای ، یہ مقام حاصل نہیں تو تو یہ سمجھے کہ خدا تجھے دیکھ رہا ہے۔اس کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تو ہر انسان کو ہر حالت میں دیکھ رہا ہے۔کیا اسلام کی رُو سے یہ کہنا جائز ہوگا کہ خدا فلاں کو دیکھ رہا ہے اور فلاں کو نہیں دیکھ رہا؟ یا خدا عیسائیوں کو نہیں دیکھ رہا ، ہندوؤں کو نہیں دیکھ رہا ،سکھوں کو