خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 251

$1953 251 خطبات محمود نہیں دیکھ رہا؟ لیکن مسلمانوں کو دیکھ رہا ہے؟ یا زید نماز نہ پڑھنے والے کو خدا تعالیٰ نہیں دیکھ رہا اور زید نماز پڑھنے والے کو خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہے؟ اگر ایسا ہوتا کہ جب بندہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا تبھی ہے خدا اُسے دیکھتا ، تو کئی لوگ جان بوجھ کر نماز چھوڑ دیتے۔اور سمجھتے کہ نہ ہم نماز پڑھیں گے اور نہ خدا ہمیں دیکھے گا۔جیسے بچے بعض دفعہ غلطیاں کر بیٹھتے ہیں تو ماں باپ کے سامنے آنے سے گریز کرتے ہیں۔اور وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ماں باپ انہیں دیکھ نہ لیں۔اسی طرح اگر نماز نہ پڑھنے والے کو ی خدا تعالیٰ نہ دیکھتا اور پڑھنے والے کو دیکھتا تو کمز ور لوگ کبھی نماز کے قریب بھی نہ جاتے۔وہ سمجھتے ہے کہ نہ ہم نمازیں پڑھیں گے اور نہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھے گا۔پس جب رسول کریم ﷺ نے یہ فرمایا کہ نماز کا ادنی مقام یہ ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ خدا اُسے دیکھ رہا ہے تو اس کے یہ معنے تو نہیں ہو سکتے کہ انسان یہ سمجھے کہ خدا نماز پڑھنے والے کو تو دیکھتا ہے اور جو نماز نہیں پڑھتا اُسے نہیں دیکھتا۔کیونکہ اس صورت میں کمزور لوگ نماز نہ پڑھنے کو اپنے لیے زیادہ برکت کا موجب سمجھتے اور وہ کی خیال کرتے کہ نہ ہم نماز پڑھیں گے اور نہ ہمیں خدا دیکھے گا۔پھر ایک اور معنے بھی اس کے لیے جا سکتے ہیں اور وہ یہ کہ فی الواقع تو خدا انسان کو نہیں ہے دیکھ رہا۔لیکن تم یہ سمجھو کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔اگر یہ معنے لیے جائیں تو یہ جھوٹ بن جاتا ہے۔اگر خدا ہمیں نہیں دیکھ رہا اور ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ خدا ہمیں دیکھ رہا ہے تو ہم اپنے نفس کو دھوکا دیتے ہی ہیں۔اور ایک جھوٹا تصور اپنے ذہن میں پیدا کرتے ہیں۔پس یہ دونوں معنے نہیں لیے جا سکتے۔نہ معنے لیے جاسکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہم کو عام طور پر نہیں دیکھتا لیکن جب ہم نماز پڑھتے ہیں تو وہ ہمیں دیکھتا ہے۔اور نہ یہ معنے لیے جا سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہم کو حقیقتا نہیں دیکھ رہا لیکن ہمیں یہ سمجھنات چاہیے کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔جب یہ دونوں معنے غلط ہیں تو لازماً ہمیں اس کے کوئی اور معنے لینے کی پڑیں گے جو قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ہوں۔اور وہ معنے یہی ہیں کہ اس جگہ سمجھ لو کہ معنے یقین ہے کر لینے کے ہیں۔گویا رسول کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ تم سمجھ لو کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں۔کہ تمہیں یقینی طور پر اس بات کو محسوس کرنا چاہیے کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔اور یقینی علم اور محض خیال اور وہم میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ایک آدمی صرف خیال کرتا ہے کہ خدا اُسے دیکھ رہا ہے۔اور ایک آدمی اس یقین کامل پر قائم ہوتا ہے کہ خدا اُسے دیکھ رہا ہے۔بظاہر دونوں