خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 243

خطبات محمود 243 سال 1953ء آٹھ کروڑ روپیہ خرچ ہو گا۔مگر اس آٹھ کروڑ کے نتیجہ میں جتنا کام وہ اب کر رہے ہیں اس سے دگنا کام کرنے کے وہ قابل ہو جائیں گے۔اور جتنی کمائی وہ اب کرتے ہیں اس سے دگنی کمائی کرنے کی کے قابل ہو جائیں گے۔اور نہ صرف مہاجرین کی حالت سدھرے گی بلکہ ہمارے ملک کی ترقی کی رفتار بھی پہلے سے تیز ہو جائے گی۔ہمارے ملک کا میزانیہ، اب سوا ارب سے ڈیڑھ ارب تک جاچکا ہے۔ایسے ملک کے لیے آٹھ دس کروڑ روپیہ قرض لے لینا کوئی بڑی بات نہیں۔یہ قرض آسانی سے دو چار سال میں اتارا جا سکتا ہے۔ہمارے ملک کی طرف سے امریکہ کا بڑا شکر یہ ادا کہ جاتا ہے کہ اس نے ہمارے لیے میں کروڑ کی گندم کا انتظام کیا۔اگر اُس کا دل اتنا نرم ہوسکتا۔ہمارا دل اپنے بھائیوں کی مصیبت کو دیکھ کر کیوں نرم نہیں ہوسکتا۔مگر مصیبت یہ ہے کہ ہم لوگ جب بھی کوئی کام کرتے ہیں ہم یورپ اور امریکہ کی نقل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔حکومت کی طرف سے جب ٹاؤن پلیز (Town Planner) یا پراونشل ٹاؤن پلیز (Provincial Town Planner) مقرر کیے جاتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ ایسی سکیم بنائیں جس پر زیادہ سے زیادہ روپیہ خرچ ہو۔حالانکہ جب مصیبت آئے تو اُس وقت بڑی بڑی سکیمیں نہیں سوچی جاتیں بلکہ ساری کوشش صرف سے دو مصیبت کو دور کرنے پر صرف کی جاتی ہے۔جب تک ہم ان لوگوں کی نقل کرتے رہیں گے جو ہم۔چار سو سال پہلے ترقی کے میدان میں آگے نقل چکے ہیں، اُس وقت تک ہم اپنے کاموں میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ہم شام کو اپنے گھر سے نکلتے ہیں اور اُس شخص سے دوڑ کر ملنا چاہتے ہیں جو ہم سے بارہ گھنٹے پہلے نکل چکا ہے۔ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ہماری کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔میں دیکھتا ہوں کہ یہاں عمارتوں کے لیے ایسے ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں جو امریکہ اور نیو یارک میں بھی نہیں۔وہاں چھوٹی چھوٹی گلیاں بھی موجود ہیں، کم خرچ والی عمارتیں بھی موجود ہیں لیکن یہاں مجبور کیا جاتا ہے کہ فلاں طرز کی عمارتیں بنائی جائیں اور اتنی چوڑی گلیاں رکھی ہے جائیں۔حالانکہ ہمارے ملک میں زمینیں کم ہیں اور آدمی زیادہ ہیں۔اگر ایسے ہی قوانین جاری کی رکھے گئے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ زمین ختم ہو جائے گی اور لوگ ابھی غیر آباد پڑے ہوں گے۔یہ ساری خرابیاں اسی بات کا نتیجہ ہیں کہ باہر نکل کر لوگوں کے حالات کو نہیں دیکھا جاتا اور گھر بیٹھ کر خیالی سکیمیں تجویز کر لی جاتی ہیں۔حالانکہ خیالی دنیا بالکل اور چیز ہے اور واقعاتی دنیا بالکل اور چیز ہے۔