خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 242

خطبات محمود 242 سال 1953ء لوگوں کی رہائش کے لیے پہلے عارضی مکانات بنائے اور پھر لاکھوں لاکھ روپیہ خرچ کر کے عارضی مکانات کو مستقل مکانات میں تبدیل کیا۔غالباً اس وقت تک چالیس پچاس لاکھ روپیہ خرچ ہو چکا تھی ہوگا یا شاید اس سے بھی زیادہ۔لوگوں نے اعتراض بھی کیے اور کہا کہ قوم کا روپیہ ضائع کیا جارہا ہے اور اس کے خرچ میں اسراف سے کام لیا جا رہا ہے۔مگر میں نے اس کی پروا نہیں کی کیونکہ میں نے سمجھا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ وہ لوگ جو بے گھر ہو چکے ہیں اُن کی رہائش کا انتظام کیا جائے۔ہم لوگ تو خود مہاجر تھے۔اگر ہم نے اپنے لیے یہ انتظام کر لیا تو کیا وجہ ہے کہ گورنمنٹ اس قسم کا انتظام نہیں کرسکتی۔اصل بات یہ ہے کہ گورنمنٹ اپنی آنکھوں سے ان کے حالات کو نہیں دیکھتی۔مجھے پہلے یقین نہیں آتا تھا کہ ہزاروں ہزار مہاجر ابھی اس بے کسی کی حالت میں پڑے ہیں کہ انہیں اپنا سر چھپانے کے لیے بھی جگہ نہیں مل رہی۔لیکن دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ ان کی ایسی حالت ہے کہ انسانیت کی اس سے زیادہ بے عزتی ناممکن ہے۔پاکستان کے قیام پر چھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور اب ساتواں سال شروع ہے۔اس چھ سال کے عرصہ میں ابھی تک گورنمنٹ اس قابل نہیں ہوئی کہ لوگوں کو عارضی مکانات ہی دے سکے۔حالانکہ عارضی مکانات بنانے پر کچھ زیادہ روپیہ خرچ نہیں ہو سکتا۔اگر ہم فرض کر لیں کہ دس لاکھ مہاجر ابھی تک آباد نہیں ہوئے تو چونکہ اوسط آبادی کی انسان کے خاندان کی چار پانچ سبھی جاتی ہے اس لیے دس لاکھ مہاجرین کی آبادی کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں ان کے لیے دولاکھ مکانوں کی ضرورت ہے۔ہم نے ربوہ میں تجربہ کیا ہے کہ بارہ بارہ سو میں ایک کچا مکان بن سکتا ہے۔ایسا مکان کہ جس میں دو کمرے ہیں، غسل خانہ ہے، پاخانہ ہے۔باورچی خانہ ہے اور چار دیواری ہے۔اگر مہاجرین کے لیے صرف ایک کمرہ پر کفایت کر لی جائے اور مکانات کی تعمیر میں خود اُن سے بھی مدد لی جائے تو ایک مکان پر اس سے بھی کم رقم خرچ ہو سکتی ہے۔اگر صرف ایک کمرہ رکھا جائے اور اس کے ساتھ فسل خانہ، پاخانہ اور باورچی خانہ بھی بنایا جائے اور مزدوری کے کاموں میں مہاجرین سے بھی مدد لی جائے تو میرے خیال میں چار سو روپیہ میں اس قسم کا مکان بن سکتا ہے جس میں انسان بارش سے بچ سکتا ہے، سردی گرمی کے اثرات سے محفوظ رہ سکتا ہے اور اپنی زندگی باعزت طریق پر بسر کر سکتا ہے۔اس طرح دولاکھ مکانات پر تھی