خطبات محمود (جلد 34) — Page 241
خطبات محمود 241 سال 1953ء اپنی زندگی کے دن بسر کر رہے ہیں۔پھر اب جو میں کراچی آ رہا تھا تو جب حیدر آباد کے پاس ریل پہنچی میں نے دیکھا کہ ہزاروں ہزار جھونپڑیاں جو محض تنکوں کی بنی ہوئی تھیں اُن میں بارش کی وجہ سے اتنا پانی بھرا ہوا تھا کہ جہاں تک نظر جاتی تھی پانی ہی پانی نظر آتا تھا۔اور جو جھونپڑیوں کے درمیان گلیاں سی بنائی گئی تھیں اُن میں بھی گھٹنوں گھٹنوں تک پانی چل رہا تھا۔میں نے دیکھا کہ اُس وقت وہ لوگ اپنے ہی جھونپڑوں سے نکل کر اپنے اپنے ہمسائیوں کے ساتھ کھڑے اس مزے سے باتیں کر رہے تھے جیسے کوئی اعلیٰ درجہ کی گلیوں میں کھڑا ہو۔اس نظارہ کو دیکھ کر تعجب بھی ہوا کہ ایسی حالت میں بھی ان کے کے دلوں میں کتنا جوش پایا جاتا ہے۔اور ساتھ ہی ان کی حالت کو دیکھ کر سخت صدمہ بھی محسوس ہوا کہ اتنا لمبا عرصہ گزر جانے کے باوجود حکومت نے اب تک ان کو بسانے کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔ہر حکومت جب قائم ہوتی ہے تو وہ بڑے زور سے اعلان کرتی ہے کہ وہ مہاجرین کی آبادی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش صرف کر دے گی۔مگر متواتر اعلانات کے باوجود مہاجرین کی آبادکاری کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی۔پھر وہ وزارت بدل جاتی ہے اور دوسری وزارت آجاتی ہے اور وہ بھی ایک ایسا ہی اعلان کر دیتی ہے۔مگر عملی رنگ میں وہ بھی کوئی کام نہیں کرتی اور صرف الفاظ سے مہاجرین کو تسلی دلانے کی کوشش کرتی ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر اس کے میں مشکلات کیا ہیں اور کیوں ان مہاجرین کو اب تک باعزت طریق پر بسایا نہیں جاسکا۔اور ہم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ربوہ کی زمین جو ایک ہزار سال سے آباد نہیں ہوئی تھی او جس کو گورنمنٹ نے کئی دفعہ ٹھیکہ پر بھی دیا تا کہ لوگ اسے کسی طرح آباد کریں مگر ٹھیکہ دار ہیں ہیں ، تمیں تمیں ہزار روپیہ لگا کر بھاگ گئے اس زمین کو خرید کر ہم نے پاکستان کو لوٹ لیا۔اور یہ نہیں ہے دیکھا جاتا کہ ہم نے اس زمین کو آباد کرنے اور اپنی جماعت کے مہاجرین کو بسانے کے لیے کتنے لاکھ روپیہ خرچ کیا۔ان لوگوں میں جو گھاس پھوس کے جھونپڑوں میں رہائش رکھ رہے ہیں گاؤں کے کے نمبر دار بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ہندوستان میں سوسو ڈیڑھ ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار کی آمد رکھتے ہوں گے۔مگر واقع یہ ہے کہ ہمارے ربوہ کے ایک چوہڑے کا مکان بھی اُن کے جھونپڑوں سے بدرجہا بہتر ہے۔ہم نے تین چار لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ روپیہ خرچ کر کے