خطبات محمود (جلد 34) — Page 240
خطبات محمود 240 سال 1953ء نہیں آیا۔اسلام قومی ترقی اور معاشرت کے ارتقاء کے لیے بھی آیا ہے۔اور قوم اور معاشرت کا لی پیتا بغیر اجتماع میں شامل ہونے کے نہیں لگ سکتا ہے۔ایک انسان اپنے گھر میں بیٹھے خواہ کتنا ہی ہے اللہ اللہ کرتار ہے، کتنا ہی ذکر الہی میں مشغول رہے جب تک وہ اپنے ہمسایہ سے نہیں ملتا اُس وقت تک اسے اپنے ہمسایہ کی مصیبتوں اور اُس کی مشکلات کا علم نہیں ہو سکتا۔لیکن جب وہ ملتا ہے تب اُسے پتا لگتا ہے کہ دنیا میں کن حالات میں سے لوگ گزر رہے ہیں۔مثلاً ابھی پیچھے ملک میں تفرقہ ہے پیدا ہوا اور لاکھوں لاکھ آدمی اُدھر سے ادھر آگئے اور لاکھوں لاکھ ادھر سے اُدھر چلے گئے۔اخباروں میں پڑھنے سے اور لوگوں کے حالات سننے سے کچھ نہ کچھ اندازہ تو ہوتا تھا کہ مہاجرین کو کیا کیا تکالیف ہیں اور وہ کن مصیبتوں میں سے گزر رہے ہیں۔لیکن دیکھنے سے کچھ اور ہی اندازہ ہوتا ہے۔مجھے یاد ہے 1948ء میں میں کسی سفر پر لاہور سے گیا۔واپسی پر لاہور سے چالیس میل کے فاصلے پر میں نے ہزاروں آدمیوں کا اجتماع دیکھا جو کھلے میدان میں بانس کھڑے کر کے اور اُن کے اوپر چادر میں تان کر ڈیرہ ڈالے پڑے تھے۔مجھے وہ اجتماع کچھ عجیب سا معلوم ہوا۔بظاہر اُن کی شکل ایسی ہی تھی جیسے خانہ بدوش ہوتے ہیں۔مگر ان کی اتنی تعداد نہیں ہوا کرتی۔میں نے کی اپنے بعض ساتھیوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ وہی خانہ بدوش قو میں معلوم ہوتی ہیں۔مگر اُن کی کے اس جواب سے میرے دل کو تسلی نہ ہوئی۔اور میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ تو ی معلوم ہوا کہ یہ مہاجرین ہیں جو اس طرح کھلے میدان میں بانس گاڑ کر اور اُن کے اوپر چادریں ڈال کر ہزاروں کی تعداد میں یہاں ڈیرہ ڈالے پڑے ہیں حالانکہ اُس وقت تک ہجرت پر آٹھ نوتی مہینے گزر چکے تھے۔مگر باوجود اس کے کہ اُس وقت تک آٹھ نو مہینے گزر چکے تھے ابھی تک وہ لوگ چادر میں تان کر میدان میں گزارہ کر رہے تھے۔جب میں نے اُن کو دیکھا اُس وقت سردی کا موسم گزر چکا تھا اور گرمی کا موسم شروع تھا۔گویا ستمبر، اکتوبر نومبر دسمبر اور پھر جنوری فروری ، مارچ اور اپریل آٹھ مہینے گزر چکے تھے۔مئی یا جون کا مہینہ شروع ہو چکا تھا اور ابھی وہ لوگ اس طرح کے کھلے میدانوں میں پڑے تھے کہ انہیں اپنی رہائش کے لیے جھونپڑی تک بھی میسر نہیں تھی۔میرے واہمہ اور گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ ہزاروں آدمی اس طرح اپنی زندگی بسر کر سکتے ہیں۔لیکن اُس وقت اُن لوگوں کو دیکھنے سے معلوم ہوا کہ مہاجرین کی کیا حالت ہے۔اور وہ کیسی تکلیف۔