خطبات محمود (جلد 33) — Page 80
1952 80 خطبات محمود ہاتھ آجا تا تو یہ لوگ دوڑ تے آتے اور کہتے ہم بھی آپ کے بھائی ہیں۔1 پس جو دیانت دار آدمی کی ہے اگر آپ لوگوں کو اُس کی اخلاقی مدد بھی مل جائے تو بھی وہ دلوں کو نہیں بدل سکتا۔وہ بے شک کوشش کرے گا مثلاً ایک آدمی مارا جاتا ہے تو وہ کوشش کرے گا کہ قاتل کو سزا ہو جائے۔اور فرض کرو کہ ایک مجسٹریٹ انصاف سے کام لے کر قاتل کو سزا دے دیتا ہے تب بھی سزا سے بنتا کیا ہے؟ جب لاکھوں لوگ ایسے موجود ہیں جو احمدیت کے دشمن ہیں تو ایک افسر چاہے وہ انصاف سے کام لے کر کیا سکتا ہے۔فرض کر و حکومت قانون بنا دیتی ہے کہ احمدیوں کی مخالفت نہ کی جائے۔تب بھی اگر اکثریت شرارت پر آمادہ ہو تو وہ حکومت کو بھی بدل سکتی ہے۔پس جو دیانتدار افسر ہیں ان کی طاقت محدود ہے اس لئے وہ زیادہ مفید نہیں ہو سکتے۔اور جو شخص بددیانت ہے اُس سے اُمید رکھنا فضول ہے۔اس لئے تم حکام کو برابر توجہ دلاتے جاؤ تا اُن پر حجت تمام ہو جائے۔اس سے خدا تعالیٰ کا غضب بھی بھڑک اٹھتا ہے اور مظلوم کے لئے خدا تعالیٰ کی مدد بھی تیز ہو جاتی ہے۔لیکن اس امداد پر تو کل نہ کرو۔مگر اس طریق کو جو خدا تعالیٰ نے جاری کیا ہے اُسے بھی اختیار کرو۔آخر کوئی حکومت ہو، مسلم ہو یا غیر مسلم، بُری ہو یا اچھی اُس کے بنے میں خدا تعالیٰ کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ 2 یعنی حکومت خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے حکومت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔لوگ کہتے ہیں فلاں شخص نے لڑائی کی کر کے حکومت لے لی ہے، فلاں شخص نے غصب کر کے حکومت لے لی ہے یا فلاں شخص نے کی بغاوت کر کے حکومت کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔لیکن ہر حکومت میں خدا تعالیٰ کی مرضی ضروری شامل ہوتی ہے۔جس طرح انسان کی پیدائش میں خدا تعالیٰ کی مرضی شامل ہے، جس طرح انسان کی موت میں خدا تعالیٰ کی مرضی شامل ہے، جس طرح رزق میں خدا تعالیٰ کی مرضی شامل مامی ہے اسی طرح اس کی مرضی حکومت میں بھی شامل ہوتی ہے۔بے شک اس میں انسانی اعمال کا بھی تھی دخل ہے، بے شک اس میں انسانی کوششوں سستیوں اور غفلتوں کا بھی دخل ہے لیکن خدا تعالیٰ کی فرماتا ہے یہ ہماری طرف سے ہے۔جس طرح موت اور حیات خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اسی کی طرح حکومتوں کا بننا اور ٹوٹنا بھی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔کسی قوم کی موت اور حیات ، اُس کا نجی