خطبات محمود (جلد 33) — Page 81
1952 81 خطبات محمود ٹوٹ جانا اور بننا ہے یہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔جب ہم کہتے ہیں تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ۔تو حکومتوں کا بننا اور ٹوٹنا بھی خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہوا۔اور جس خدا کے ہاتھ میں حکومت کا قائم کرنا ہے، جس خدا کے ہاتھ میں حکومتوں کا بنا اور ٹوٹنا ہے ، وہی خدا حکم دیتا ہے کہ تم اپنی تکلیفیں افسران بالا کے سامنے لے جاؤ اور اس سے فائدہ نہ اٹھانا بیوقوفی ہے۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم مذہبی لحاظ سے بار بار اپنی تکالیف گورنمنٹ تک پہنچا ئیں۔اسی کی طرح اگر کوئی افسر فرض شناس ہوگا تو ہماری مدد بھی کرے گا اور ہمیں فائدہ پہنچائے گا۔لیکن اگر وہ تمہیں فائدہ نہیں پہنچائے گا تو تم خدا تعالیٰ کے سامنے یہ کہہ سکو گے کہ اے خدا ! جو ذریعہ اصلاح کا تو نے بتایا تھا وہ ہم نے اختیار کیا ہے پھر اس پر جو حجت پوری ہو جائے گی اور جس سزا کا اسے خدا تعالیٰ مستحق قرار دے گا وہ اس پر وارد ہو جائے گی۔چاہے وہ سزا آخرت میں ہی ملے یا اس دنیا میں مل جائے۔دنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو لوگ ایک افسر کو اونچا کرنے والے ہوتے ہیں ایک وقت آتا ہے کہ وہی اُسے ذلیل کر دیتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی افسر آتا ہے تو ایک وقت تک لوگ اُس کی تعریفیں کرتے ہیں۔بعد میں وہی لوگ اُس کو اتنا تنگ کرتے ہیں کہ وہ مجبور ہو کر اپنا تبادلہ کر الیتا ہے۔پس جب حکومت خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور جب چاہے وہ اسے توڑ سکتا ہے تو اس کے مقرر کردہ طریق کو نہ بھولو۔تم اس بات کو مت بھولو کہ شورشوں کو حکام تک پہنچا نا تمہارا فرض ہے۔پھر تم یہ بات بھی مت بھولو کہ تمہارا تو کل خدا تعالیٰ پر ہے حکومت پر نہیں۔پھر جہاں تمہارا یہ فرض ہے کہ ان امور کو حکومت کے سامنے لے جاؤ وہاں اگر تمہیں مایوسی نظر آتی ہے تو مایوس مت ہو کیونکہ اصل بادشاہ خدا تعالیٰ ہے اور جو فیصلہ بادشاہ کرے گا وہی ہوگا۔انسان جو فیصلہ کرے گا وہ نہیں ہوگا۔ایک افسر کی غلطی کی وجہ سے حکام کو توجہ دلانا چھوڑ نہ دو۔اور ایک افسر کی غفلت کی وجہ سے فائدہ اٹھانا ترک نہ کرو۔محض چند افسران کا اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہونا ایسی چیز نہیں کہ تم حکام کے کام سے غافل ہو جاؤ۔تم انہیں توجہ دلاتے رہو اور ان کے اس اپنی شکایات لے جاؤ۔لیکن تمہارا ایمان تبھی مکمل ہو گا جب تم اپنی شکایات حکومت کے سامنے پیش تو کرو تم ان امور کو لے کر افسران کے پاس جاؤ تو ضرور لیکن یہ خیال مت کرو کہ اگر