خطبات محمود (جلد 33) — Page 49
1952 49 خطبات محمود کونظر انداز کرتا ہے اور نہ عقل کو نظر انداز کرتا ہے۔وہ ہر بات کو جانچنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر ان صحیح ذرائع سے جو خدا تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں کام لے کر فیصلہ کرتا ہے۔وہ حسنِ ظنی سے بھی کام لیتا ہے اور بلا وجہ شبہات سے بچنے کی بھی کوشش کرتا ہے اور کہتا ہے جب تک کوئی بات مجھ پر اچھی طرح واضح نہ ہو جائے میں اسے نہیں مانتا۔مثلاً اگر کوئی کہتا ہے کہ تمہاری بیوی نے ایسا کیا ت ہے تو وہ کہے گا ہر ایک کی بیوی ایسا کر سکتی ہے۔اگر تم ثابت کر دو کہ میری بیوی نے ایسا کیا ہے تو کی میں مان لوں گا۔اسی طرح اگر کوئی شخص اس کے بیٹے کے متعلق شکایت کرتا ہے کہ اس نے چوری کی کی ہے تو وہ کہے گا ہر ایک کا بیٹا ایسا کر سکتا ہے بلکہ نبیوں کے بیٹے بھی ایسا کر سکتے ہیں۔اگر تم ثابت کر دو گے کہ میرے بیٹے نے واقعی طور پر چوری کی ہے تو میں اسے سزا دوں گا۔غرض نہ تو وہ محبت میں اتنا آگے چلا جاتا ہے کہ وہ اسے حماقت کے گڑھے میں گرا دے اور نہ وہ محض عقل سے کی کام لیتا ہے کہ وہ وہم اور وسوسہ میں پڑ کر جنون کی حد تک پہنچ جائے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں ایک طبقہ ایسا بھی پیدا ہو گیا ہے جو عقل اور محبت کے درمیان توازن قائم نہیں رکھتا۔یا تو وہ اس طرف چلے جاتے ہیں کہ بھائیوں پر بدظنی کرنے لگی جاتے ہیں اور جب بھی وہ اپنے بھائی کے متعلق کوئی بُری بات سنتے ہیں تو اُسے فوراً تسلیم کر لیتے ہیں۔اور سمجھتے ہیں کہ عقل کی بات یہی ہے کہ اسے تسلیم کر لیا جائے۔یا مثلاً ان میں سے کسی کا دوست کوئی الزام لگا تا ہے تو وہ کہتا ہے میرے دوست نے یہ بات کہی ہے اس لئے سچی ہے۔حالانکہ وہ دوست جھوٹا ہوتا ہے اور اتنا جھوٹا ہوتا ہے کہ ہم مان ہی نہیں سکتے کہ اسے معلوم نہ ہو کہ اُس کا دوست جھوٹ بول رہا ہے۔لیکن چونکہ وہ دوست ہوتا ہے اس لئے وہ اس کی بات مان لی لینے پر تیار ہو جاتا ہے اور دوسرا آدمی کتنا بھی سچا ہو وہ اس پر الزام لگائے جاتا ہے۔گویا اس کے نزدیک نیکی کا معیار یہ ہوتا ہے کہ دوسرا آدمی اُس کا دوست ہے اور دشمنی کا معیار یہ ہوتا ہے دوسرا آدمی نا واقف ہے یا دوست نہیں ہے۔گویا سچائی کا تعلق خدا تعالیٰ سے نہیں ، اُس کے رسول سے نہیں بلکہ اُس شخص سے ہے۔حالانکہ اصل سچائی یہ ہے کہ جتنا کوئی خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے قریب ہو گا وہ سچا ہو گا۔لیکن اس کے نزدیک اصل سچائی یہ ہے کہ جتنا کوئی اُس کے نزدیک ہوگا اُتنا ہی وہ سچا ہو گا۔اگر مسیلمہ کذاب بھی اس کے قریب ہے تو وہ سچا ہے اور اگر