خطبات محمود (جلد 33) — Page 48
1952 48 خطبات محمود درزی نے جواب دیا ہاں اس کی سات ٹوپیاں بن سکتی ہیں۔اس نے پھر خیال کیا کہ درزی نے کی اب بھی کپڑا بچا لیا ہے اس لئے اس نے پھر کہا کہ اس کی آٹھ ٹو پیاں بن سکتی ہیں ؟ تو درزی نے کہا ہاں اس کی آٹھ ٹو پیاں بھی بن سکتی ہیں۔اب اُسے شرم آئی اور اس نے کہا اگر یہ آٹھ ٹو پیوں کے بعد بھی کپڑا چراتا ہے تو چرا لے۔اس نے درزی سے کہا یہ ٹوپیاں کب تک تیار ہو جائیں گی ؟ اس نے کہا آٹھ دن کے بعد آنا اور ٹوپیاں لے جانا۔چنانچہ وہ آٹھ دن کے بعد واپس آیا۔درزی نے ٹوپیاں تیار کی ہوئی تھیں مگر وہ نہایت چھوٹی چھوٹی تھیں جیسے انگشتا نے 1 ہوتے ہیں وہ یہ ٹو پیاں دیکھ کر حیران ہوا اور کہا تو نے میرا کپڑ ا خراب کر دیا ہے۔درزی نے کہا می آپ نے خود کہا تھا کہ اس کپڑے سے آٹھ ٹو پیاں بنا دو سو میں نے آٹھ ٹوپیاں بنادی ہیں اور اگر کی کوئی شخص یہ کہہ دے کہ میں نے اس کپڑے میں سے ایک دھجی 2 بھی ضائع کی ہے تو میں مجرم ہوں گا مگر جب اس کپڑے کی آٹھ ٹوپیاں بنیں گی تو اتنے سائز کی ہی بنیں گی چنانچہ وہ شرمندہ ہو کر واپس چلا گیا اور بدظنی کی سزا پالی۔غرض اگر خالی عقل ہی استعمال کی جائے تو یہ انسان کو جنون کی طرف لے جاتی ہے۔اسی طرح خالی محبت انسان کو احمق اور جاہل بنا دیتی ہے۔مثلا کسی کی بیوی جھوٹ بولتی ہے اور لوگ کی کہتے ہیں کہ تمہاری بیوی نے جھوٹ بولا ہے تو وہ انہیں گالیاں دینی شروع کر دیتا ہے اور کہتا ہے میری بیوی جھوٹ نہیں بول سکتی۔بیٹا چوری کرتا ہے اور لوگ کہتے ہیں تمہارے بیٹے نے چوری کی ہے تو وہ انہیں بُرا بھلا کہنے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے میرا بیٹا ایسا نہیں کرتا۔اس نے ان کے دل کی چیر کر نہیں دیکھے ہوتے بلکہ اُس کا علم محض محبت تک محدود ہوتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ چونکہ یہ میری بیوی ہے اس لئے وہ جھوٹ نہیں بول سکتی۔چونکہ یہ میرا بیٹا ہے اس لئے یہ چوری نہیں کر سکتا۔غرض محبت میں انتہا کو پہنچ جانا انسان کو حماقت تک پہنچا دیتا ہے۔پس اگر محض عقل سے کام لیا کی جائے تو اوہام اور شبہات ترقی کرتے جاتے ہیں اور اگر خالی محبت سے کام لیا جائے تو انسان کی احمق اور جاہل بن کر رہ جاتا ہے۔سارا محلہ بدگوئی کر رہا ہوتا ہے کہ فلاں کی بیوی جھوٹ بولتی ہے لیکن یہ خوش ہو رہا ہوتا ہے کہ اسے اس سے زیادہ نعمت اور کیا ملے گی۔جیسی بیوی اسے ملی ہے ویسی اور کسی کو نہیں مل سکتی۔لیکن مومن کا طریق ان دونوں کے درمیان ہوتا ہے۔مومن نہ تو محبت