خطبات محمود (جلد 33) — Page 50
1952 50 خطبات محمود رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس سے دور ہیں تو وہ نَعُوذُ بِاللہ جھوٹے ہیں۔خدا تعالیٰ خود اپنی ذات میں روشنی ہے۔اس روشنی سے تم جتنے دور ہو گے اُتنے ہی کی اندھیرے میں جاؤ گے۔لیکن جس چیز کا تعلق روشنی سے نہیں اُس سے دور جانے والے روشنی سے کی دُور نہیں جائیں گے۔مثلاً اگر تم سورج سے اپنے آپ کو دور کر لیتے ہو تو تم اندھیرے میں چلے جاؤ گے۔لیکن اگر باپ کی طرف پیٹھ کر لو گے تو روشنی میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔تمہیں ساری تھی چیزیں نظر آتی رہیں گی۔اس میں شبہ نہیں کہ سورج ماں باپ کی طرح قابل ادب نہیں لیکن خدا تعالیٰ نے اس میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ اس سے نو ر وابستہ ہے اور یہ خاصیت ماں باپ میں نہیں پائی جاتی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ماں باپ خواہ تم پر سختی کریں ،تمہارے ساتھ بدسلوکی کریں تم انہیں اُف تک نہ کہو۔3 پھر خدا تعالیٰ نے ہر جگہ ماں باپ کو تو حید کے ساتھ رکھا ہے۔گویا اس نے ان کے وجود کو اپنے ساتھ ملایا ہے۔اگر کلمہ میں اس نے اپنی توحید کے کی ساتھ رسول کو ملایا ہے تو تفصیلی احکامات میں ہر جگہ تو حید کے ساتھ ساتھ ماں باپ کا ذکر کیا ہے۔غرض جو قدر ماں باپ کی ہے وہ سورج کی نہیں۔لیکن سورج میں خدا تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ روشنی دیتا ہے۔اگر تم لحاف میں منہ کر لو یا پردہ میں چلے جاؤ تو تم اندھیرے میں چلے جاؤ گے۔لیکن ماں باپ میں یہ خاصیت نہیں پائی جاتی۔تم بے شک اُن کی طرف پیٹھ کر لو تمہیں ساری تجھے چیزیں نظر آتی رہیں گی۔پس ماں باپ کا مقام الگ ہے اور سورج کا مقام الگ ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کا یہ مقام ہے کہ اُس سے تم جتنا دور جاؤ گے اُتنا ہی سچائی سے دور جاؤ گے۔خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کو یہ مقام حاصل نہیں۔اسی طرح دین کا مقام ہے۔دین سچائیوں کا مجموعہ ہے۔اور جو شخص سچائیوں کے مجموعہ سے دور ہو گا وہ جھوٹ کی طرف چلا جائے گا۔فرض کر و قرآن کریم میں دس ہزا ر سچائیاں ہیں۔اگر کوئی شخص ان دس ہزار سچائیوں میں سے پانچ ہزار سچائیوں کو مانتا ہے تو سیدھی بات ہے کہ وہ باقی پانچ ہزار سچائیوں کا منکر ہے۔اسی طرح اگر وہ 1/4 ہزار سچائیوں کو مانتا ہے تو ساڑھے سات ہزار سچائیاں ایسی رہ جائیں گی جن کا وہ منکر ہوگا۔یا اگر وہ 1/10 سچائیوں کا قائل ہے تو نو ہزار سچائیاں باقی رہ جائیں گی جن کا وہ منکر ہو گا۔لیکن ماں باپ یا کسی دوسرے رشتہ دار کو اس چیز کے تی