خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 347

1952 347 خطبات محمود تھے اور تبلیغ اسلام کے فرض کو ادا کرنے میں خوشی ، رغبت اور لذت محسوس کرتے تھے۔پہلی صدی کی کو تو جانے دو جب ہر مسلمان ہی ایک مبلغ تھا۔دوسری صدی کو بھی جانے دو۔تیسری صدی کو بھی اجی جانے دو۔چوتھی ، پانچویں، چھٹی اور ساتویں صدی کو بھی جانے دو۔جب تبلیغ کرنے والے اور اس کا انتظام کرنے والے بڑے اہم آدمی تھے۔ان کے بعد کی صدیوں کو بھی جانے دو۔جب تبلیغ نہایت محدود دائرہ کے ساتھ وابستہ رہ گئی تھی لیکن پھر بھی لوگ دوسرے ملکوں میں جاتے تھے۔میں تو تیرھویں صدی کے متعلق کہتا ہوں بلکہ چودھویں صدی کی ابتدا کے متعلق کہتا ہوں جب بظاہر مسلمانوں پر موت آ گئی کہ اس وقت بھی خدا تعالیٰ کے ایسے بندے موجود تھے جو اسلام کی تبلیغ کرتے تھے۔مثلاً مغربی افریقہ ہے۔اس میں اسلام بہت قریب کے زمانہ میں پھیلا ہے۔یعنی اس ملک میں تبلیغ 60 ، 70 یا 100 سال کے اندر ہوئی ہے۔بالعموم بر بری ، شامی اور سوڈانی کی لوگ وہاں گئے اور انہوں نے اسلام کی تبلیغ کی جس کے نتیجہ میں لاکھوں لوگ مسلمان ہوئے۔پس انفرادی حیثیت سے مسلمانوں میں آخر تک تبلیغ ہوتی رہی ہے گو محدود ہوئی ہے۔لیکن اجتماعی رنگ میں تبلیغ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہی قریباً مفقود ہوگئی کیونکہ خلفاء ان جنگوں میں جو عیسائیوں اور زرتشتیوں کے خلاف لڑی گئیں اس قدر اُلجھ گئے کہ اُس وقت جہاد اور تبلیغ دونوں کو ایک سمجھ لیا گیا اور خلفاء کے بعد مسلمانوں پر جمود طاری ہو گیا۔وہ کی دنیوی شان و شوکت اور ترقیات کو اپنا منتہائے مقصود سمجھ بیٹھے اور تبلیغ کی اصل روح کو بھول گئے۔پس انفرادی طور پر اسلام میں نہایت عظیم الشان لوگ پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے تبلیغ اسلام کے فرض کو اچھی طرح ادا کیا۔افغانستان میں مسلمان پھیل گئے ، افریقہ میں وہ گئے اور وہاں تبلیغ کی۔وہ چین، جاپان، انڈو نیشیا اور ہندوستان میں آئے اور یہاں اسلام کی تبلیغ کی اور لاکھوں لوگ اُن کے ذریعہ مسلمان ہوئے۔غرض انہوں نے تبلیغ کی اور بڑی شان سے تبلیغ کی۔لیکن یہ انفرادیت تھی اجتماعیت نہیں تھی۔حالانکہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا۔وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ 1 - یعنی تم میں ہمیشہ ایک ایسی امت ہونی کی 1۔چاہیے جو لوگوں کو بھلائی کی طرف بلائے اور انہیں نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے اور انجی امت کے معنی ایسی ہی جماعت کے ہیں جو اپنے اندر نظم رکھتی ہو۔چونکہ امت اور امام ایک ہی کی مادے سے نکلے ہیں اس لئے در حقیقت امت وہی ہے جو اپنا مرکز رکھتی ہو۔جب وہ مرکز سے نکل جائے گی ہم اسے امت نہیں کہیں گے۔یہی وجہ ہے کہ ہم مسلمانوں کو امت محمد یہ کہتے ہیں۔