خطبات محمود (جلد 33) — Page 348
1952 348 خطبات محمود مسلمانوں میں چاہے کتنا اختلاف ہو جائے ، چاہے ان کے کتنے فرقے بن جائیں امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی رہے گی۔اسی وجہ سے ہم باوجود حضرت مسیح موعود کو نبی کہنے کے اپنے آپ کو آپ کی اُمت نہیں کہتے۔ہمارے بچوں تک سے پوچھو تو وہ کہیں گے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہوں۔مسیح موعود کی جماعت میں سے ہوں۔ہم عیسائیوں اور یہودیوں کو اُمت نہیں کہتے۔عیسائی اور یہودی حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اُمت تھے۔اب وہ اُمت نہیں رہے۔اب وہ جماعت بھی نہیں رہے۔وہ ایک طائفہ ہیں، گروہ ہیں ، حزب ہیں، اُمت نہیں۔کیونکہ کوئی اُمت صرف اُس وقت تک امت می کہلاتی ہے جب تک اُس میں اتحاد ہو۔اُمت اُس وقت تک اُمت کہلاتی ہے جب تک وہ امام کے گرد چکر کھاتی ہو۔اُمت اُس وقت تک اُمت کہلاتی ہے جب تک وہ خاص مقاصد لے کر کھڑی ہوئی ہو۔اُتم کے معنی خاص مقصد کے ساتھ چلنے کے بھی ہیں۔اور امت وہی کہلاتی ہے جو کسی خاص مقصد کو لے کر کھڑی ہو ، اس میں نظم ہو، وہ کسی مرکزی نقطہ کے گرد چکر کھا رہی ہو۔وَلَتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ المُنكَرِ میں مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے یہ حکم دیا گیا تھا کہ ان میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں جو مقصد تبلیغ کو لے کر کھڑے ہوں۔ان کا عمر بھر یہی کام ہو کہ وہ ایک نظام کے ماتحت رہیں۔لیکن یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں ہوئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ آپ لوگوں کو ادھر ادھر بھیج رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ تم فلاں جگہ پر جاؤ اور انہیں اسلام کی تعلیم دو۔آپ کے زمانہ میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ آپ کے اردگر دلوگ ہیں تا کہ وہ دین سیکھیں۔ہمیں نظر آتا ہے کہ وفود باہر جا رہے ہیں تا وہ دوسرے لوگوں کو اسلام کی کچ تعلیم سکھائیں اور باہر سے وفود آ رہے ہیں تا مدینہ میں آکر وہ اسلام کی تعلیم حاصل کریں۔خلفاء کے وقت میں صحابہ جنگوں میں اُلجھ گئے اور اس طرح کی تبلیغ کے لئے وہ وقت نہ نکال سکے۔اور ان کے بعد لوگ سستی اور غفلت کی وجہ سے اس طرف سے ہٹ گئے اور انہوں نے اپنے مقصد کو بھلا دیا۔چونکہ درمیان میں وقفہ پڑ گیا تھا اس لئے بعد میں آنے والے اپنے اس مقصد کو بھول گئے۔اور وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ پر عمل نہ ہوا۔