خطبات محمود (جلد 33) — Page 15
1952 15 خطبات محمود نہیں ہو سکتا اسی طرح اسلام کی اشاعت کے لئے قربانی نہ کرنے والا بھی سچا مسلمان یا سچا احمدی نہیں کہلا سکتا۔لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے مقدمات میں کس طرح اپنی جانیں لڑاتے ہیں۔اب کفر و اسلام کے مقدمہ میں جو حصہ نہیں لیتا اور اسے نفلی سمجھتا ہے وہ کیسے سچا مسلمان کہلا سکتا ہے۔تحریک جدید نفلی اس لئے ہے کہ ہم اس میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے کسی کو سزا نہیں دیتے۔لیکن فرض اس لحاظ سے ہے کہ اگر تمہیں احمدیت سے سچی محبت ہے تو تحریک جدید میں حصہ لینا تمہارے لئے ضروری ہے۔جب ماں بچہ کے لئے رات کو جاگتی ہے تو کون کہتا ہے کہ اس کے لئے رات کو جاگنا فرض ہے۔بچہ کی خاطر رات کو جاگنا فرض نہیں نفل ہے۔لیکن اسے رات کو جاگنے سے کون روک سکتا ہے۔جس سے محبت ہوتی ہے اس کی خاطر ہر شخص قربانی کرتا ہے اور یہ نہیں کہتا کہ ایسا کرنا فرض نہیں نفل ہے۔اس طرح جو شخص اسلام اور احمدیت سے کچی محبت رکھتا ہے وہ یہ نہیں کہے گا کہ ان کی اشاعت کی خاطر قربانی کرنا فرض نہیں۔بلکہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے قربانی کرنا اسے فرض سے بھی زیادہ پیارا لگے گا۔کیونکہ وہ سمجھے گا کہ ایسا کرنے سے اسلام کو دوبارہ شوکت وعظمت حاصل ہو جائے گی بلکہ جب تبلیغ جہاد کا ایک حصہ ہے تو اس میں حصہ لینا فرض ہی کہلانے کا مستحق ہے۔پس اس خطبہ کے ذریعہ میں جماعت کو اس کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اب دوست صرف یہ نہ کریں کہ جو لوگ اس میں حصہ لیتے ہیں اُن سے وعدے لے کر بھجوا دیئے جائیں بلکہ ہر بالغ احمدی کو تحریک جدید میں شامل کریں۔بلکہ نابالغ بچوں کو بھی تحریک جدید میں شامل کر سکتے ہیں تا انہیں احساس رہے کہ انہوں نے بڑے ہو کر اسلام کی اشاعت میں حصہ لینا کی ہے۔ہمارے گھروں میں نابالغ بچوں کی طرف سے والدین حصہ لے لیتے ہیں اور انہیں بتا دیتے ہیں کہ تمہارا تحریک جدید کا وعدہ اس قدر ہے تا انہیں احساس ہو کہ وہ بڑے ہو کر اس میں حصہ لیں۔پس تم اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے بھی حصہ لے سکتے ہو۔انہیں بتاؤ کہ تمہاری کامیابی کا طریق یہی ہے کہ تمہیں اشاعت اسلام کے کاموں میں رغبت ہو اور بڑے ہو کر اس کام کو پورا کرنے کی کوشش کرو۔پس اب جبکہ بہت تھوڑ ا وقت باقی ہے۔میں پھر جماعتوں کو توجہ دلا دیتا ہوں میں نے پندرہ فروری آخری تاریخ مقرر کی تھی۔